نیتن یاہو نے ٹرمپ کے دعوے مسترد کرتے ہوئے لبنان میں حملے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

نیتن یاہو نے ٹرمپ کے دعوے مسترد کرتے ہوئے لبنان میں حملے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے لبنان میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں واضح کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔  نیتن یاہو نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو بیروت میں موجود ان اہداف کے خلاف کارروائی کی جائے گی جنہیں اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری فوجی سرگرمیاں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھیں گی، اور اس حوالے سے اسرائیل کا مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔  
دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لبنان کی جانب فوجی پیش قدمی روک دی گئی ہے اور روانہ کیے گئے امریکی دستوں کو واپس بلانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔  
ٹرمپ کے مطابق، حاصل ہونے والی مفاہمت کے تحت دونوں فریق ایک دوسرے پر حملوں سے گریز کریں گے، لیکن نیتن یاہو کے تازہ بیان نے خطے میں جنگ بندی کے مستقبل اور صورتحال کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔  
اسرائیلی وزیراعظم کا موقف ہے کہ فوجی اقدامات جاری رہیں گے۔  امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ جنگ بندی ہو چکی ہے اور خطرہ ٹل چکا ہے۔  بیچ میں تضاد کی وجہ سے خطہ میں امن اور جنگ کے امکانات واضح نہیں ہیں۔یہ خبر خطے میں جاری کشیدگی کی صورتحال، بین الاقوامی تعلقات اور سلامتی کے حوالے سے اہم ہے اور اس کے اثرات خطے کے سیاسی اور فوجی حالات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔