اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اسلامی دنیا کی خاموشی افسوسناک اور معنی خیز ہے، اور اگر دنیا خاموش رہی تو اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے۔
ایران سے اظہارِ یکجہتی:
اسد قیصر نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا:"ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ ہمارا اخلاقی، دینی اور انسانی فرض ہے۔"انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے فعال کردار ادا کرے اور ایران کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے۔
اسرائیل، بھارت اور ابھینندن کا ذکر:
اسد قیصر کا کہنا تھا:"جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تھا تو اس نے اسرائیلی ڈرون استعمال کیے، ہمیں اندازہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کے خلاف بھی جارحیت کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔"انہوں نے الزام عائد کیا کہ:"پارلیمنٹ نے ابھینندن کی واپسی کا فیصلہ کیا تھا، یہ فیصلہ حکومت نے خود نہیں کیا، اور اس موقع پر لیگی قیادت خاموش تماشائی بنی رہی۔"
مسلم لیگ ن اور قیادت پر تنقید:
اسد قیصر نے کہا:"بھارت سے کشیدگی کے وقت نواز شریف نے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اب انہوں نے مریم نواز، حمزہ شہباز، اور جنید صفدر کو قیادت میں آگے لا کر وراثتی سیاست کو فروغ دیا ہے۔"
پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست اور قیادت:
اسمبلی میں جاری سیاسی بحث کے دوران انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت پر بات کرتے ہوئے کہا:"پی ٹی آئی میں عمر ایوب قائد حزب اختلاف بن گیا، گوہر چیئرمین بن گیا، یہ سب قربانی اور جدوجہد کی بنیاد پر ہوا، نہ کہ وراثت کی بنیاد پر۔"انہوں نے کہا کہ:"آپ لوگ صرف ڈیسک بجانے کے لیے رہ گئے ہیں، آپ کبھی قائد نہیں بن سکیں گے۔"
عدالتی نظام پر تنقید:
اسد قیصر نے عدالتی رویے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا:"بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دینے کے لیے عدالتیں تالے لگا دیتی ہیں، جبکہ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد بھی صرف انہیں پھسانا تھا۔"انہوں نے کہا:"ہم پر ظلم کرو، گولیاں چلاؤ، جو کرنا ہے کرو، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، بانی پی ٹی آئی آج بھی ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں، اس حقیقت کو تم ہضم نہیں کر پا رہے۔"
خواجہ آصف کی تقریر چلائی:
بحث کے دوران اسد قیصر نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی پرانی قومی اسمبلی تقریر بھی چلوا دی، جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسیوں پر سابقہ مؤقف دیا تھا۔