پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، اور آئین ہمیں احتجاج کا حق دیتا ہے، لہٰذا کوئی ہمیں احتجاج کرنے سے نہیں روک سکتا۔
اسد قیصر کا میڈیا سے گفتگو:
پشاور ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران اسد قیصر نے پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ عدالتوں میں بھی جائیں گے اور سڑکوں پر بھی احتجاج کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرامن احتجاج کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ حکومت کی جانب سے عوام کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات نفرتوں کو بڑھا رہے ہیں۔
احتجاج اور موجودہ حکومت کے اقدامات:
اسد قیصر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینا اور اس طرح کے اقدامات کرنا کسی جواز کے بغیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے اور پارٹی کی قیادت کو غیرقانونی طور پر جیلوں میں رکھا جا رہا ہے۔ اسد قیصر نے واضح کیا کہ آئین ہر شہری کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق دیتا ہے، اور پی ٹی آئی ملک کی سب سے مقبول جماعت ہے جو یکجہتی کی علامت ہے۔
پی ٹی آئی کا موقف:
سابق سپیکر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ آئین و قانون کا احترام کیا ہے اور اگر کسی نے اس کا غلط فائدہ اٹھایا تو وہ اپنی بھول پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے رہنما بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیرقانونی حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں۔
مستقبل کے اقدامات:
اسد قیصر نے مزید کہا کہ وہ افسران کو خبردار کرتے ہیں کہ اپنی قانونی حد سے آگے نہ بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا، اور پارٹی کی پہلی ترجیح ان کے رہنماؤں کی رہائی ہے جو جیلوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہداء کے گھروں میں جائیں گے اور ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف ہر حد تک جائیں گے، اور بین الاقوامی فورمز پر بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے۔اسد قیصر کا بیان حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی مزاحمت کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، اور وہ اپنے پارٹی کارکنوں کے ساتھ ان کے حقوق کے لیے لڑنے کا عہد کر چکے ہیں۔