کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل مذاکرات سے ممکن ہے، بلاول بھٹو

کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل مذاکرات سے ممکن ہے، بلاول بھٹو

پاکستان کے سفارتی وفد کے سربراہ اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا واحد حل مذاکرات اور سفارتکاری ہے، جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔

برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں ملک رہا ہے اور ہم ہر فورم پر تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔

پاکستانی وفد کا مقصد امن کی بحالی ہے
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر بھارت کے ساتھ کشیدگی کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطحی وفد تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد سفارتی سطح پر خطے میں امن کو فروغ دینا اور عالمی برادری کو بھارت کے جارحانہ رویے سے آگاہ کرنا ہے۔

بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے
بلاول بھٹو نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ پانی جیسے انسانی وسائل کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جو کہ عالمی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود کشیدگی میں اضافہ
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اس کے باوجود دوطرفہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو باعثِ تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اس سے صرف انسانی جانوں کا ضیاع اور خطے کا امن تباہ ہوتا ہے۔"

عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کی اپیل
بلاول بھٹو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ کشمیر سمیت تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔