ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی "خیبر" بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغنے جا رہی ہے، جس کے نتائج پر دنیا حیران رہ جائے گی۔
اہم اعلانات اور دعوے:
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج اسرائیل کے اُن تمام مراکز کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں سے ایران اور فلسطینیوں پر حملے کیے گئے۔جاری "آپریشن وعدۂ صادق سوم" کے تحت 150 اسرائیلی اہداف کو اب تک نشانہ بنایا جا چکا ہے۔نشانہ بننے والے اہداف میں اسرائیلی فوجی اڈے، اسلحہ ساز کمپنیاں اور فوجی تنصیبات شامل ہیں۔
فضائیہ کی کارروائی اور جوابی بیانیہ:
پاسداران انقلاب کے مطابق، ایرانی فضائیہ نے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کر کے ان مقامات پر جوابی کارروائی کی ہے جہاں سے اسرائیل نے ایران اور غزہ میں بمباری کی تھی۔
ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے برعکس، ایرانی میزائل اپنے اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
خیبر میزائل کا انتباہ:
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ:"خیبر میزائل جلد ہی داغا جائے گا، اور دنیا دیکھے گی کہ ایران کس حد تک اپنے دفاع اور مظلوموں کے خون کا بدلہ لینے میں سنجیدہ ہے۔"یہ میزائل ایران کے جدید بیلسٹک ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے، جو طویل فاصلے تک مار کرنے اور بھاری تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سخت انتباہ اور سرخ لکیر کا اعلان:
پاسداران نے مزید واضح کیا کہ:"ایران کی سیکیورٹی ایک سرخ لکیر ہے، اور اگر اس پر حملہ کیا گیا تو اس کا فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔"
پس منظر:
یاد رہے کہ اس سے قبل ایران نے اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے، جن میں تل ابیب، یروشلم اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں کئی عمارتیں تباہ اور درجنوں افراد زخمی و ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی حملے اسرائیل کے ان فضائی حملوں کا جواب ہیں جن میں ایرانی جوہری سائنسدان، پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر اور عام شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
عالمی ردعمل کا انتظار
پاسداران انقلاب کی طرف سے خیبر میزائل داغنے کے اعلان نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔