ہندوتوا نظریے کے شدت پسند حامی سخت گیر قیادت کے متمنی، کچھ حلقے نسبتاً معتدل قیادت کی تلاش میں
نئی دہلی (آئی این پی )بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اس وقت ایک سنگین داخلی خلفشار کا شکار ہے، جو نہ صرف پارٹی کی اندرونی یکجہتی پر سوالات اٹھا رہا ہے بل کہ ملکی سیاست میں بھی غیریقینی کیفیت پیدا کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پارٹی کے اندر نظریاتی اور تنظیمی سطح پر تقسیم واضح ہوتی جا رہی ہے، جو آنے والے دنوں میں پارٹی کی کارکردگی اور عوامی تاثر پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔بی جے پی اس وقت ایک قیادت کے بحران سے بھی دوچار ہے، کیوں کہ موجودہ پارٹی صدر جے پی نڈا کی مدت صدارت اپنے اختتام کے قریب ہے۔ نڈا اس وقت صحت کی وزارت کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، جس کے باعث وہ پارٹی کی تنظیمی امور پر پوری توجہ نہیں دے پا رہے۔ پارٹی میں قیادت کی تبدیلی کے معاملے پر جاری مشاورت نے اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔پارٹی کے مختلف گروہ اپنے اپنے مفادات اور نظریاتی وابستگیوں کے ساتھ سرگرم ہیں، اور بی جے پی کے اندرونی حلقوں میں بڑھتی ہوئی یہ تقسیم نظریاتی بنیادوں پر بھی دکھائی دے رہی ہے۔ ہندوتوا نظریے کے شدت پسند حامی سخت گیر قیادت کے متمنی ہیں، جو پارٹی کی پالیسیوں میں زیادہ جارحانہ انداز اپنانے کے خواہاں ہیں، جبکہ کچھ حلقے نسبتاً معتدل اور ہم آہنگی پر مبنی قیادت کی تلاش میں ہیں۔