چین اس کشیدہ صورتحال میں کمی کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے:ترجمان وزارت خارجہ‘عالمی برادری اسرائیل کو جارحیت سے روکے اور خطے کے امن کے تحفظ کے لئے واضح مؤقف اختیار کرے:عمان‘مسئلے کاسفارتی حل کیا جائے:آسڑیلیا
اسرائیل کو فوری طور پر جارحانہ کارروائیاں ختم کرنی چاہئیں یہ حملے بڑے تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں:ترکیہ‘خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں:روس‘بڑھتی ہوئی کشیدگی افسوسناک ہے:وزیراعظم نیوزی لینڈ
بیجنگ‘ریاض‘استنبول(مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جہاں تہران میں جوہری تنصیبات اور اعلیٰ فوجی حکام کو نشانہ بنایا گیا، وہیں عالمی برادری نے اسرائیلی کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا اسرائیل کے ایران پر حملے کے ممکنہ سنگین نتائج پر گہری تشویش ہے۔ کشیدگی میں اچانک اضافہ کسی فریق کے مفاد میں نہیں، فریقین خطے میں امن وسلامتی کے فروغ کیلئے اقدامات کریں، چین اس کشیدہ صورتحال میں کمی کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔سعودی عرب کا سخت بیان: "یہ کھلی جارحیت ہے"سعودی وزارت خارجہ نے ایک شدید الفاظ پر مبنی بیان میں کہا ہے: "سعودی عرب، برادر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صریح اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے، جو اس کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔"سلطنت عمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملہ "خطرناک غفلت پر مبنی شدت پسندی" ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکے اور خطے کے امن کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کرے۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ، انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا: "ہم اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں، خاص طور پر جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں فریقین کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ترک وزارت خارجہ نے کہا اسرائیل کو فوری طور پر اپنی جارحانہ کارروائیاں ختم کرنی چاہئیں یہ حملے بڑے تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں۔آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا: "ایران کا میزائل اور جوہری پروگرام عالمی امن کے لیے خطرہ ضرور ہے، لیکن ہم اسرائیل اور ایران دونوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیں۔"
۔برطانوی وزیراعظم نے بھی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران و اسرائیل دونوں کو کشیدگی کم کرنی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں استحکام برطانیہ سمیت پوری دنیا کے لیے ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ جارحیت کسی کے مفاد میں نہیں‘نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ یہ مشرق وسطی میں واقعی ایک ناپسندیدہ پیشرفت ہے، غلط اندازے کا خطرہ زیادہ ہے، اس خطے کو مزید فوجی کارروائی اور اس سے وابستہ خطرے کی ضرورت نہیں ہے‘وزیر اعظم نیوزی لینڈ کرسٹوفر لکسن نے کہا: "مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی افسوسناک ہے، اس سے مزید فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جو دنیا افورڈ نہیں کر سکتی۔" روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اسرائیلی حملوں کے بعد صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، پیسکوف کا کہناتھا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اس اچانک اور شدید اضافے سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں