لندن: اسرائیلی وزیرِ دفاع کی جانب سے غزہ کے تمام باشندوں کو جبراً ایک کیمپ میں منتقل کرنے کے اعلان کے بعد، برطانیہ میں لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے 59 ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لامی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ فلسطین کو فوری طور پر بطور ریاست تسلیم کرے۔
یہ خط ایسے وقت میں لکھا گیا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک متنازع منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت غزہ کے تمام فلسطینیوں کو جنوبی شہر رفح کے کھنڈرات میں قائم ایک کیمپ میں جبراً منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ منصوبے کے مطابق کیمپ سے فلسطینیوں کو باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔
نسلی تطہیر کی تشویش
خط میں ارکانِ پارلیمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ "ہمیں یقین ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل نسلی تطہیر (ethnic cleansing) کی ایک شکل ہے۔"انہوں نے لکھا:"یہ اعلان انسانیت کے خلاف جرم کا ایک عملی اور آپریشنل منصوبہ معلوم ہوتا ہے، جو کہ ایک پوری آبادی کو جبری طور پر بے دخل کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔"
انسانی حقوق کے ماہرین کا مؤقف
خط میں اسرائیلی انسانی حقوق کے معروف وکیل مائیکل سفارد کا حوالہ بھی دیا گیا، جنہوں نے اس منصوبے کو "انسانیت کے خلاف جرائم کا منصوبہ" قرار دیا ہے۔اراکینِ پارلیمنٹ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ کیمپ مستقبل میں فلسطینیوں کو مستقل طور پر جنوبی سرحد پر محدود کرنے کی تیاری ہو سکتی ہے، جس سے فلسطینی عوام کا مکمل جغرافیائی بکھاؤ اور جبری بے دخلی عمل میں آئے گی۔
خط کی ترتیب اور دستخط کنندگان
یہ خط برطانیہ میں فلسطینی کاز کے لیے کام کرنے والی پارلیمانی تنظیم Labour Friends of Palestine and the Middle East (LFPME) کی جانب سے مرتب کیا گیا، اور اس پر لیبر پارٹی کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے 59 ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخط موجود ہیں۔
وزیرِ خارجہ سے مطالبات
خط میں وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لامی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ:برطانیہ فوری طور پر فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرے؛اسرائیل پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رہنے کے لیے سفارتی دباؤ ڈالا جائے؛برطانوی حکومت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری پوری کرے۔