ایران کے مذہبی شہر قم کے رہائشی علاقے پردیسان میں ایک رہائشی عمارت میں زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہو گئے۔
واقعے نے عوام میں خوف و ہراس پھیلا دیا، تاہم حکام نے اسے محض حادثاتی دھماکہ قرار دیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس نیوز کے مطابق، ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ گیس لیک کے باعث ہوا۔ قم فائر بریگیڈ کے سربراہ نے بتایا کہ واقعے میں چار رہائشی یونٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:"یہ دھماکہ کسی اسرائیلی حملے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک حادثاتی گیس اخراج کا نتیجہ ہے۔"یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد ملک میں متعدد مشتبہ دھماکوں کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، جنہیں بعض شہری دشمن حملے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ایک اعلیٰ ایرانی سیکیورٹی ذریعے نے شہریوں کو افواہوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا:"اگر ملک پر واقعی کوئی بیرونی حملہ ہوتا ہے تو عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا، اور دشمن علاقوں میں بھی اس کے اثرات نظر آئیں گے۔"واضح رہے کہ قم ایران کا ایک مذہبی اور سیاسی طور پر حساس شہر ہے، اس لیے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو عام طور پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ دھماکے کی درست وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔