پاکستان کے سب سے بڑے اور گنجان آباد شہر کراچی میں اگر زلزلہ یا کسی اور قدرتی آفت کے باعث ایک سے زیادہ عمارتیں گر جائیں، تو ریسکیو اور ریلیف کے سرکاری انتظامات خطرناک حد تک ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں لیاری کے علاقے بغدادی میں پانچ منزلہ عمارت گرنے کے واقعے نے نہ صرف ریسکیو نظام کی خامیاں بے نقاب کیں بلکہ مستقبل میں ممکنہ بڑے سانحات سے نمٹنے کی تیاریوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
صرف دو اربن ریسکیو یونٹس، محدود مشینری اور عملہ
ذرائع کے مطابق کراچی میں کے ایم سی اور ریسکیو 1122 کے تحت صرف دو اربن سرچ اینڈ ریسکیو ونگز کام کر رہے ہیں، جن میں ڈیڑھ سو سے بھی کم تربیت یافتہ اہلکار موجود ہیں۔ ان ٹیموں کے پاس جدید مشینری اور ریسکیو آلات کی کمی ہے۔ جبکہ شہر میں ضلعی یا ٹاؤن سطح پر کوئی فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل موجود نہیں ہے۔
غیرقانونی اور مخدوش عمارتوں کی بھرمار
آئی بی اے کراچی اربن لیب کے کوڈائریکٹر محمد توحید نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ شہر میں گزشتہ 20 برسوں سے غیر قانونی عمارتوں کی بھرمار جاری ہے۔ 40، 60 اور 80 گز کے پلاٹوں پر کئی کئی منزلہ غیرقانونی تعمیرات ہو رہی ہیں جن میں سورج کی روشنی اور ہوا کا گزر تک ممکن نہیں۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے مطابق کراچی میں 60 ہزار سے زائد غیرقانونی عمارتیں کھڑی کی گئی ہیں۔محکمہ بلدیات کے مطابق شہر کی 588 عمارتوں کو مخدوش قرار دیا گیا ہے، مگر مکین گھر خالی کرنے پر آمادہ نہیں۔
ریسکیو آپریشن میں تاخیر، روابط کا فقدان
لیاری میں گرنے والی عمارت کے ریسکیو آپریشن میں 50 گھنٹے لگے۔ مختلف اداروں میں رابطے کی کمی کی وجہ سے آپریشن میں تاخیر ہوئی، جس پر شہریوں اور فلاحی اداروں نے شدید تنقید کی۔ مقامی فلاحی ادارے کے ریسکیو انچارج عمران الحق نے بتایا کہ کراچی میں 1500 ایمبولینسیں ہیں، مگر ان کا کوئی مشترکہ رابطہ نظام موجود نہیں۔
ریسکیو 1122 اور کے ایم سی: موجودہ صلاحیتیں اور محدودات
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب کے مطابق ادارے کے پاس جدید آلات اور اقوام متحدہ کے معیارات کے مطابق تربیت یافتہ 55 اہلکار موجود ہیں، مگر یہ ٹیم اتنی بڑی آبادی کے لیے ناکافی ہے۔کے ایم سی کے چیف فائر ریسکیو آفیسر ہمایوں خان کے مطابق ان کے پاس 88 اہلکاروں پر مشتمل ایک یونٹ، پانچ اسنارکلز اور کچھ جدید آلات موجود ہیں، لیکن یہ وسائل کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں۔
تجویز: ٹاؤن کی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ یونٹس
ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں ٹاؤن کی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز قائم کی جائیں۔ محمد توحید نے تجویز دی کہ 25 یونٹس پر مشتمل ایک مربوط نظام بنایا جائے جو بلدیاتی سطح پر کام کرے۔ اہلکاروں کو عالمی معیار کے مطابق تربیت دی جائے اور جدید آلات سے لیس کیا جائے۔
نتیجہ: لیاری سانحہ ایک وارننگ ہے
ماہرین، شہری اور ادارے متفق ہیں کہ اگر کراچی میں کسی قدرتی آفت یا زلزلے کے باعث بڑی تباہی ہوئی تو ریسکیو نظام کا مکمل درہم برہم ہو جانا خارج از امکان نہیں۔ لیاری سانحہ درحقیقت ایک انتباہ ہے، جسے نظرانداز کرنا مستقبل میں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔