کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ترک تعاون و رابطہ ایجنسی (ٹیکا) کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں سندھ اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، صحت، ثقافت، روزگار، ڈیجیٹل تبدیلی اور آفات سے نمٹنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی و برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، سندھ میں ٹیکا کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل میں تعاون کے نئے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت، ڈیجیٹل تبدیلی اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور ترکیہ کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ٹیکا حکام نے سندھ میں صاف پانی، روزگار اور آفات سے نمٹنے کے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق عمرکوٹ اور پنو عاقل میں شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹس قائم کیے گئے ہیں، جن سے روزانہ تقریباً 20 ہزار افراد کو صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔اجلاس میں کراچی رکشہ روزگار پروگرام، ریسکیو اہلکاروں کی تربیت اور جدید ریسکیو آلات کی فراہمی سمیت دیگر منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔تعلیم کے شعبے میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے بتایا کہ سندھ کے 378 کالجز میں 5 لاکھ 57 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ 200 سے زائد کالجز میں بی ایس ڈگری پروگرام شروع کیے جاچکے ہیں۔
ملاقات میں ڈیجیٹل لرننگ، ادارہ جاتی ترقی اور فیکلٹی کی استعداد کار بڑھانے میں ترکیہ کے تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیر ثقافت نے سندھ کے تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، تاریخی مقامات کی بحالی اور ثقافتی تبادلوں سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا، جبکہ کراچی میں صحت، شہری سہولیات اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ٹیکا کے ڈپٹی صدر ڈاکٹر علی ارجان نے سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ شراکت داری کو اہمیت دی جاتی ہے اور مزید ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جائے گی جن سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ٹیکا کے ساتھ تعاون میں اضافے سے صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید تقویت ملے گی۔