صحافت مقابلہ نہیں، مکالمہ ہے

 انجینئر علی رضوان چودھری
براڈ کاسٹ میڈیا نے بدقسمتی سے صحافت کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی انا، من پسند سوالات اور پہلے سے طے شدہ جوابات کے گرد گھومنے والا تماشہ بنا دیا ہے۔ آج کے بیشتر ٹاک شوز میں سوال سچ جاننے کے لیے نہیں بلکہ مہمان کو لاجواب کرنے، نیچا دکھانے یا مخصوص بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اینکر خود کو منصف نہیں بلکہ فریق سمجھنے لگا ہے، اور اس کی ذاتی رائے خبر پر غالب آ جاتی ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں شائستگی، توازن اور غیر جانبداری جیسے بنیادی صحافتی اصول قربان کر دیے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مکالمہ ختم اور محاذ آرائی شروع ہو جاتی ہے۔ مہمانوں کو بولنے کا موقع کم اور لڑنے کا موقع زیادہ دیا جاتا ہے۔ چیخ و پکار، جملوں کی تکرار اور ایک دوسرے کی بات کاٹنا پروگرام کی پہچان بن چکا ہے۔ سوالات عوامی مفاد کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند کے تابع ہو گئے ہیں، اور جواب سننے کے بجائے اینکر اپنی بات منوانے پر تْلا نظر آتا ہے۔ اس طرزِ عمل نے صحافت کو سنجیدہ رہنمائی کے بجائے وقتی تفریح اور جذباتی اشتعال کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
صحافت کو عموماً طاقت اثر و رسوخ اور سبقت لے جانے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت میں صحافت نہ تو کسی دوڑ کا نام ہے اور نہ ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا میدان۔ صحافت دراصل ایک ذمہ دارانہ مکالمہ ہے، جو معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مکالمہ سچ، شعور، برداشت اور اصلاح پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ مقابلہ بازی، سنسنی اور ذاتی مفادات پر۔
بدقسمتی سے عصرِ حاضر میں صحافت کا تصور خاصا مسخ ہو چکا ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ، فالوورز کی تعداد، بریکنگ نیوز کی جلدی اور سوشل میڈیا پر سبقت لے جانے کی خواہش نے صحافت کو ایک بے رحم مقابلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر چینل، ہر اخبار اور ہر ڈیجیٹل پلیٹ فارم دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں اخلاقیات، تحقیق اور ذمہ داری کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی صحافت کا اصل مقصد تھا؟ ہرگز نہیں۔صحافت کی بنیاد سوال اٹھانے اور جواب سننے پر رکھی گئی ہے، نہ کہ صرف الزام تراشی اور فیصلہ سنانے پر۔ ایک صحافی کا اصل کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف آراء￿  کو سامنے لائے، حقائق کو جانچے، اور پھر عوام کو سوچنے کا موقع دے۔ مکالمہ اسی عمل کا نام ہے، جہاں اختلاف کو برداشت کے ساتھ سنا جاتا ہے اور اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا۔جب صحافت مقابلہ بن جاتی ہے تو اس کا پہلا نقصان سچ کو پہنچتا ہے۔ خبر کی تصدیق ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ میں جھوٹی، ادھوری یا گمراہ کن معلومات نشر کر دی جاتی ہیں۔ اس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، اور صحافت جو کبھی اعتماد کی علامت تھی، شکوک و شبہات کی زد میں آ جاتی ہے۔
مکالماتی صحافت اس کے برعکس صبر، تحقیق اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ صحافت شور نہیں مچاتی بلکہ آواز بنتی ہے۔ یہ تماشہ نہیں دکھاتی بلکہ آئینہ دکھاتی ہے۔ مکالمہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے معاشرتی مسائل کو سمجھا اور سلجھایا جا سکتا ہے۔ غربت، تعلیم، صحت، انصاف، سیاست اور مذہب جیسے حساس موضوعات پر چیخ و پکار نہیں بلکہ سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان جیسے کثیرالجہتی معاشرے میں صحافت کا مکالماتی کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ یہاں لسانی، مذہبی، سیاسی اور سماجی تنوع موجود ہے۔ اگر صحافت مقابلہ بازی کا راستہ اختیار کرے گی تو تقسیم بڑھے گی، نفرت کو ہوا ملے گی اور معاشرہ مزید بکھر جائے گا۔ جبکہ اگر صحافت مکالمہ بنے تو اختلاف کے باوجود ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔
صحافی کا قلم اگر تلوار بن جائے تو معاشرہ لہولہان ہو جاتا ہے، اور اگر یہی قلم چراغ بن جائے تو اندھیرے کم ہونے لگتے ہیں۔ ایک ذمہ دار صحافی وہ ہوتا ہے جو طاقتور سے سوال کرے لیکن کمزور کی آواز بنے، جو حکومت پر تنقید کرے مگر ملک دشمنی نہ کرے، جو اختلاف رائے رکھے مگر شائستگی کا دامن نہ چھوڑے۔سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کو آسان بنایا ہے، وہیں صحافت کو ایک نیا چیلنج بھی دیا ہے۔ آج ہر شخص خود کو صحافی سمجھنے لگا ہے۔ بغیر تحقیق، بغیر تربیت اور بغیر ذمہ داری کے خبریں، تبصرے اور فتوے عام ہو چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں اصل صحافت کی پہچان مزید مشکل ہو گئی ہے۔ اس صورتحال میں پیشہ ور صحافیوں پر لازم ہے کہ وہ مقابلہ بازی کے بجائے مکالمے کو فروغ دیں، تاکہ فرق واضح ہو سکے۔مکالمہ صرف دوسروں کو بولنے کا موقع دینا نہیں بلکہ خود سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہے۔ صحافت میں سننے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ٹاک شوز میں چیخ و پکار، ایک دوسرے پر الزام اور مہمانوں کی بے عزتی معمول بن چکی ہے۔ یہ سب مقابلہ بازی کی علامات ہیں، مکالمے کی نہیں۔ مکالمہ سکون سے، دلیل سے اور احترام کے ساتھ ہوتا ہے۔
صحافت اگر واقعی معاشرے کی اصلاح چاہتی ہے تو اسے اپنی سمت درست کرنا ہو گی۔ صحافی کو یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ ریٹنگ کے پیچھے دوڑنا چاہتا ہے یا سچ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ وقتی شہرت اور دیرپا عزت میں فرق کو سمجھنا ہو گا۔ تاریخ نے ہمیشہ ان صحافیوں کو یاد رکھا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں بھی حق کا ساتھ دیا، نہ کہ ان کو جو شور مچا کر خاموش ہو گئے۔ صحافت نہ میدانِ جنگ ہے، نہ ریس کا ٹریک۔ یہ ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ باشعور، مہذب اور متحد ہو تو ہمیں صحافت کو مقابلے سے نکال کر مکالمے کی طرف لانا ہو گا۔ کیونکہ مقابلہ نفرت کو جنم دیتا ہے، جبکہ مکالمہ سمجھ بوجھ، برداشت اور ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔