سردیوں میں طویل کھانسی کے پیچھے خشکی، آلودگی اور روزمرہ کی عادات ہیں، ماہرین نے وجوہات بتا دیں

سردیوں میں طویل کھانسی کے پیچھے خشکی، آلودگی اور روزمرہ کی عادات ہیں، ماہرین نے وجوہات بتا دیں

سردیوں میں طویل کھانسی ایک عام مگر پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات خشک سرد ہوا، فضائی آلودگی اور کچھ روزمرہ کی عادات ہیں۔

 ماہرین کے مطابق درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے گرنے پر سانس کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے سوزش بڑھتی ہے اور مدافعتی نظام کمزور پڑتا ہے۔ فلو یا نزلے کے بعد کھانسی 3 سے 8 ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ناک کے درجہ حرارت میں 5 ڈگری کمی مدافعتی خلیات کو تقریباً 50 فیصد کم کر سکتی ہے، اور سردیوں میں ’ٹمپریچر انورژن‘ کے سبب آلودگی کے ذرات فضا میں پھنس جاتے ہیں، جس سے ایئر کوالٹی خطرناک حد تک خراب ہو جاتی ہے۔ سگریٹ نوشی، دھوئیں میں سانس لینا، کم پانی پینا اور ناکافی نیند کھانسی کے ٹھیک ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

ماہرین چند آسان تدابیر تجویز کرتے ہیں:

روزانہ 3-4 لیٹر نیم گرم پانی یا دیگر مشروبات پینا
تمباکو نوشی ترک کرنا
7-9 گھنٹے کی مکمل نیند لینا
ادرک، ہلدی، لہسن اور تازہ پھل استعمال کرنا
گھروں میں نمی 40-60 فیصد رکھنے کے لیے ہیومیڈیفائر کا استعمال
اضافی احتیاط کے طور پر فلو ویکسین لگوانا، آلودہ دنوں میں این95 ماسک پہننا اور گھروں میں مناسب ہوا کی گردش برقرار رکھنا مفید ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کھانسی تین ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے یا بخار اور سانس لینے میں دشواری ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔