عمران سے کسی کی ملاقات نہ ہوسکی ، بہنوں کا دھرنا،قرآن خوانی

تمام ورکرز کی رہائی کیلئے دعا ، عمارتوں پر بینرز آویزاں جن پر آیات تحریر تھیں 
8 فروری کا لائحہ عمل ابھی نہیں بتائیں گے مگر ڈی چوک کوئی نہیں جارہا، علیمہ 
راولپنڈی (خصوصی رپورٹ )بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشرٰی بی بی سے منگل کو کسی کی بھی ملاقات نہ ہو سکی۔ پارٹی رہنماوں اور فیملی ممبران میں سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے پر دھرنا دے دیا۔کارکنوں کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک رہی۔ فیکٹری ناکے پر ظہر کے بعد قرآن خوانی کی گئی اور تمام گرفتار ورکرز کی رہائی کے لئے دعا کی گئی۔پہلی مرتبہ فیکٹری ناکے کے اطراف کی عمارتوں پر بینرز آویزاں کئے گئے جن پر قرآنی آیات تحریر تھیں۔ جبکہ ورکرز ایکشن کمیٹی کی جانب سے بھی پہلے کارڈ دیوار پر چسپاں کئے گئے۔ کارکنوں کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بشری بی بی کی بیٹی اور بھابھی بھی آئیں لیکن ان کو جانے کی اجازت نہ ملی تحریک انصاف کی جانب سے دس ہزار افراد کے اڈیالہ جیل پہنچنے کی کال کے تناظر میں پولیس نے اڈیالہ جیل کے اطراف سخت سیکورٹی انتظامات کئے تھے تیرہ سو سے زائد کی نفری جن میں خواتین پولیس افسر و اہلکار بھی تھیں تعینات کئے گئے۔ علیمہ خان نے کہا ہے کہ 8 فروری کا کیا لائحہ عمل ہے یہ ہم ابھی نہیں بتا رہے، تاہم ڈی چوک کوئی نہیں جا رہا، آج ٹی وی پر بیٹھ کر عدلیہ کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے باہر اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے مزید کہا کہ پتا نہیں جھوٹے کیسز پر کیوں وقت ضائع کیا جارہا ہے، پچاس سے ساٹھ ججز کو عدالتوں سے ہٹایا گیا ہے، جو ججز ضمیر کے مطابق فیصلے کرنا چاہتے تھے وہ سب ہٹائے گئے، عدلیہ سے کہنا چاہتی ہوں انصاف کا نظام تو دفن ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی رول آف لاء￿  کی بات کر رہے ہیں، جج سے پہلے ٹی وی پر اینکر بتاتے ہیں کیا فیصلہ آئے گا، عوام ٹیکس اپنی سہولیات اور انصاف کیلئے دیتے ہیں، یہ واضح ہے کہ بندوق سے اس ملک میں سب کچھ نہیں چلایا جا سکتا، بانی پی ٹی آئی کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کیوں نہیں سن رہی، کیوں عدالت وکالت نامے سائن نہیں کرانے دیتی، سب نے دیکھا کراچی میں لوگ بڑی تعداد میں نکلے، عوام زیادہ دیر تک ان کو برداشت نہیں کرسکتی، ان کو جلدی ہے علیمہ خان کو 8 فروری سے قبل جیل بھیج دو۔ فیکٹری ناکہ پر گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا ہے کہ کراچی کے لوگ پرامن لوگ ہیں سہیل آفریدی کراچی کے خوف کے بت توڑ کر آئے ہیں وہ چھوٹی موٹی بات نہیں کر کے آئیہمارے اس قسم کے دلیرنوجوان پاکستان کے سیاستدان ہوں گیہر پاکستانی یہ جاننا چاہتا ہے کہ ہمارے ججزکون ہیں،اور ہمارے سیاست دان کون ہیں۔چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہناہے کہ عدالتوں کے احکامات پرعملدرآمد ہوناچاہئے ، سسٹم ساکت نہیں ہونا چاہئے ملاقاتیں ہوں گی تو حالات میں بہتری پیدا ہوگی دہشت گردی ایک ناسور ہے دہشتگردوں سے متعلق کسی کے دل میں نرم گوشہ نہیں ہونا چاہئے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بہت افسوس کی بات ملا قاتیں نہیں ہورہی ہر ہفتے ہم آتے ہیں، انتظار کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔پتا نہیں ان کو کس نے پٹی پڑھائی ہیملاقات نہ کرانا اچھا عمل ہیملاقا تیں ہوں گی تو حالات میں بہتری ہوگی۔