ملکی چیلنج نعروں نہیں خدمت سے حل ہوں گےبلاول بھٹو پیپلز پارٹی حکومتی اتحادمیں رہے گی پرویز اشرف

پاکستان کوآج بھی صحت کے شعبے میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، زچہ وبچہ کی اموات،غذائی قلت،موسمیاتی تبدیلیوں  اور بیماریوں کا سامنا ہے:جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب
تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں، اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوجائے گا، ہمارا قائد حزب اختلاف نہیں ہوگا:راجہ پرویز اشرف کی اجلاس کے بعد گفتگو

کراچی‘اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے  ملکی درپیش چیلنجز صرف نعروں سے نہیں خدمت کے جذبے سے حل ہوں گے۔کراچی میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے کہا  سندھ ہمیشہ سے علم، برداشت اور ثابت قدمی کی سرزمین رہا ہے، وادی سندھ کی تہذیب سے لیکر جدید کراچی تک اس مٹی نے مفکرین، معالجین اور مصلحین پیدا کیے۔ پاکستان کوآج بھی صحت کے شعبے میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، زچہ وبچہ کی اموات،غذائی قلت،موسمیاتی تبدیلیوں پیدا بیماریاں کا سامنا ہے۔دریں اثناء  بلاول بھٹو  نے پالیمانی پارٹی کے اجلاس کی ورچوئل صدارت کی جس میں صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس کے اجرا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ راجہ پرویز اشرف نے ن لیگ سے اختلافات ختم ہونے کی تصدیق کردی۔رپورٹ  کے مطابق   پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نوید قمر، اعجاز جاکھرانی، شہلا رضا،عبدالقادرپٹیل ، آغا رفیع اللہ،نازبلوچ،نوابزادہ افتخار،پرویزاشرف، شازیہ مری،قاسم گیلانی  اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس کے اجرا پر مشاورت کی گئی  جبکہ اراکین نے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز سے متعلق شکایات کیں۔ راجہ پرویز اشرف نے  پاکستان پیپلزپارٹی اورن لیگ کے اختلاف ختم ہونے کی تصدیق کی۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی یکسوئی کیساتھ سسٹم کے ساتھ کھڑی ہے،  حکمران اتحاد میں مکمل یکجہتی کی فضا ہے، یہ یکجہتی پاکستان کے مفاد میں ہے، پیپلز پارٹی کا حکومتی اتحاد میں رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل انہیں سے پوچھیں وہی بتا سکتیہیں،  اتحادی ہیں اتحادی رہیں گے مجھے سسٹم میں تبدیلی نظرنہیں آرہی،حکومت نے آرڈیننس پر ہمارے واک آٹ کا نوٹس لیا،جو اچھی بات ہے، حکمران اتحاد میں مکمل یکجہتی کی فضا ہے، پیپلزپارٹی کا حکومتی اتحاد میں رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے، پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد میں فیصلہ کرنے چاہئیں۔