علیمہ خان نے کہا کہ عدالتی نظام دفن ہو چکا ہے اور عمران خان کی آنکھ کا چھپ کر علاج کروانا قبول نہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں سماعت کے موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کو گزشتہ تین ماہ سے دھندلا نظر آ رہا ہے، لیکن صحت کے لحاظ سے وہ فٹ ہیں۔ ملاقات کے دوران عمران خان کی آنکھ سے پانی نکل رہا تھا، جبکہ صرف آئی ڈراپ دی گئی تھی۔انہوں نے واضح کیا کہ آنکھ کا علاج نہ کرنے پر غفور انجم جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹر مجرم ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ عوام کی بات کرتے ہیں، اور دشمن کمینہ نہیں ہونا چاہیے۔علیمہ خان نے عدالت اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج ذاتی معالج کی موجودگی میں اور چھپ کر نہیں کیا جائے۔ انہوں نے کے پی کے کے تمام ایم این اے، محمود اچکزئی اور ناصر عباس نقوی کے احتجاج پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کے پی کے بند ہونے تک علاج کروایا جائے۔
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں 13 مارچ تک توسیع کر دی۔ یہ مقدمہ تھانہ شفیق آباد میں درج ہے، جس میں علیمہ خان کی عبوری ضمانت کے لیے سماعت اے ٹی سی جج منظر علی گل نے کی اور پراسیکیوشن سے مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا۔یہ بیانات اور عدالتی کارروائی عمران خان کی صحت اور اس کے ساتھ ہونے والے طبی اقدامات کے حوالے سے جاری سیاسی اور عدالتی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔