سید منیر حسین گیلانی
اسلا م کے دو بڑے مکاتب فکر شیعہ سنی میں جہاں اختلافات ہیں ،وہیں مشترکات بھی ہیں۔جہاں صدیوں پرانے تلخ تاریخی حقائق ہیں وہیں امام خمینی، مولانا مودودی ، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر،مولانا شاہ احمد نورانی اور علامہ ساجدعلی نقوی بھی ہیں جنہوں نے مشترکہ پلیٹ فارم سے اتحاد و اتفاق اور قوم کو جوڑے رکھنے کی بات کی۔ 1990ء کی دہائی میںملی یکجہتی کونسل اور2001ء میں متحدہ مجلس عمل کی شکل میں باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ،ضابطہ اخلاق بنایا گیا لیکن فرقہ وارانہ دہشت گردی کو نہ روکا جا سکا۔اس کی وجہ نیت کا فتور اور وقتی ضرورت کا مسئلہ ہے۔ جب بھی کسی بڑے قومی مسئلے سے متوجہ ہٹانا ہوتی ہے توکسی مسجد،امام بارگاہ، دربار یا بازار میں دھماکہ ہوجاتا ہے۔ لیکن ان واقعات کو سرانجام دینے میں ایندھن کا کام وہ تکفیری مائنڈ سیٹ ہے جس کی آبیاری پاکستان میں ضیائی مارشل لا کے دوران کی گئی، مذہب اور مسلک کا منفی استعمال ہوا۔قتل و غارت گری اور ٹارگٹ کلنگ کی گئی، دہشت گرد جھنگ کی کسی گلی میں جاتے اور بے گناہ شہریوں کو شہید کر دیتے ،پھر لشکر جھنگوی کے نام سے دہشت گرد گروپ تشکیل پایا ،وہ تو باقاعدہ اخبارات میں قتل کے بعد ذمہ داری قبول بھی کرتا تھا۔پریس ریلیز جاری ہوتایا فون پر کسی صحافی کو اطلاع دے دی جاتی کہ فلاں مولانا، وکیل ،پروفیسر،ڈاکٹر یا کاروباری شخصیت کو ہم نے قتل کیا ہے۔ جرم اس کا مسلک بتایاجاتا۔پھرردعمل میںان لوگوں نے’ سپاہ محمد پاکستان‘ تشکیل دی ، جو قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کی پرامن پالیسیوں سے خوش نہ تھے۔ وہ قیادت سے تکفیری ملاوں جیسے لہجے کی توقع رکھتے تھے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ امام مہدی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی گئی کیسٹیں شیعہ ا کابرین، جاگیرداروں کو بھجوائی گئیں۔مگرمحرکین کو شیعہ قیادت سے مایوسی ہوئی کیونکہ رد عمل وہ نہ ہوا جو مقصود تھا۔جنرل پرویز مشرف دور میں دہشت گردی کے الزام پر تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی،جس کا شکار توازن پالیسی کے تحت تحریک جعفریہ پاکستان بھی ہوئی۔ 2016ء میں سپریم کورٹ نے یہ پابندی علامہ سیدساجد علی نقوی کی پیٹیشن پرہٹا بھی دی مگر آج تک وزارت داخلہ بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے گریزاں ہے۔ آرمی پبلک سکول کا دل خراش واقعہ ہوا تو واقعی دہشت گردوں پر کڑاہاتھ ڈالا گیا۔نیشنل ایکشن پلان بنا مگر اس کا اطلاق تکفیری گروہ پر ہوا اور نہ ہی کالعدم تنظیموں کو نکیل ڈالی جا سکی۔ اس گروہ کے جلسے اسلام آباد سمیت ہر بڑے شہر میں ہورہے ہیںمگر سرکاری مشینری نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔حال ہی میں تکفیری گروہ نے فیصل آباد، ملتان، اسلام آباد میں جلسے کیے اور وہی زہر اگلا جس کے لیے یہ بنائے گئے تھے۔ اب کوئی راز نہیں رہا کہ ضرورت ہوتی ہے تو مذہبی تنظیم اسلام آباد سمیت پورا ملک بند کر دیتی تھی ،پولیس راستے کھلوانے میں ناکام رہتی۔پھر وقتی ضرورت پڑتی ہے تو اسی تنظیم کو مرید کے
سے آگے نہیں جانے دیا جاتا، اور قیامت صغریٰ برپا کر دی جاتی ہے۔وقتی ضرورت ہوتی ہے تو تحریک انصاف کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچتا ہے، دھرنامہینوںجاری رہتا ہے۔ پھر ضرورت نہیں رہتی ، حالات تبدیل ہوتے ہیںتو اسی تحریک انصاف کو سڑکوں پر نہیں نکلنے دیا جاتا ،چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے۔ رہنما وں سے اعلان لا تعلقی کروایا جاتا ہے۔ لیکن تکفیری دہشت گرد گروہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی یہ دوہرا معیار اب ختم کرنا ہو گا۔ 6 فروری کواسلام آباد کے علاقے ترلائی میںمسجد خدیجہ الکبریٰ کے سانحہ کے بعداب شیعہ قیادت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مشتعل نوجوانوں کا شیعہ علما ء کونسل اور مجلس وحدت مسلمین پر دباو بڑھ رہا ہے، سپاہ محمد کی باتیں کی جارہی ہیں، اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ذمہ دار اداروں کو سوشل میڈیا پرجاری تکفیریت اور نفرت آمیز موادپر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک ٹویٹ پر ایمان مزاری اور اس کے شوہر کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن دہشت گردی کو ہوا دینے والے ڈیجیٹل مو اد پر کوئی توجہ نہیں۔سانحہ ترلائی نے بہت کچھ سے پردہ اٹھا دیا ہے، کئی چہرے بے نقاب ہوئے ہیں۔بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں جاری آپریشن کسی ایک دن کی پیداوار نہیں، ان حالات پر اور تکفیری دہشت گردی پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے۔قابل اطمینان ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کے مطالبے پر دہشت گردی کا شکار ہونے والی مسجد کا دورہ کیا اور خود کش حملہ آور کومسجد کے دروازے پر ہی دبوچنے والے قوم کے بہادر بیٹے عون عباس سمیت تمام شہدا کے ورثااور زخمیوں کی امداد کا اعلان بھی کیا۔۔END۔۔۔