تحریر:چودھری محمد سرور
جان سے پیارا پاکستان اس وقت بہت سے مسائل سے دوچار ہے جن میں سے ایک مسئلہ دہشت گردی کا ہے جو کہ سنگین ترین صورت اختیار کرچکا ہے۔ شائد ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب دہشت گردی اور تخریب کاری کی کوئی وردات نہ ہوتی ہو۔ ایک سانحہ کا دکھ ابھی مندمل نہیں ہوتا کہ دوسرا رونما ہوجاتا ہے۔ دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ لہولہان ہیں۔سکیورٹی فورسز کے عام اہلکاروں سے لے کر اعلیٰ عہدیداروں تک جام شہادت نوش کررہے ہیں یہ اتنا بڑا جانی نقصان ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔اس طرح کے پے در پے رونما ہونے والے واقعات سے پاکستان کی فضا سوگوار ہے۔
ہم سب سے پہلے سیکورٹی فورسز کے بہادر جوانوں اور غازیوں کو سلام پیش کرتے جو اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کررہے ہیں۔ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر اب ضرورت امر کی ہے کہ اس ناسور کے خاتمہ کیلئے فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں ، دہشت گردوں کو نشان ِ عبرت بنایا دیا جائے اور پوری قوت سے ان کو کچل دیا جائے۔
لیکن ہمیں سب سے پہلے دہشت گردی کے اسباب کو دیکھنا ہوگا جب اسباب کا تعین ہوجائے تو سدباب بھی یقینی ہوجاتا ہے۔ ابھی چند سال پہلے کی بات ہے جب دہشت گردں کا سرغنہ اور ’’ را ‘‘ کا ایجنٹ کلبھوشن بلوچستان سے اپنے نیٹ ورک سمیت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔کلبھوشن کا پکڑے جانا اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت ملوث ہے۔دوسرا ثبوت یہ ہے کہ بھارتی چینلز پر بیٹھے ان کے اینکر اور دفاعی تجزیہ نگار اعلانیہ پاکستان کی سا لمیت کے بارے میں ہذیان بک رہے اور بلوچستان میں دراندازی کے دعوے کررہے ہیں۔بلوچستان میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے یہ سب اسی سلسلہ کی کڑی ہے اور اس کے تانے بانے براہ راست دہلی سے ملتے ہیں۔
بھارت ہمارا دشمن ہے اس نے دشمنی ہی کرنی ہے۔ بھارت سے خیر اور بھلائی کی توقع رکھنا عبث ہے دکھ اپنے وزیر اعظم پر ہے، فارن ڈیسک اور انٹرنل ڈیسک پر ہے جو زبانوں پر تالے ڈالے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں جو کہ بہت تکلیف دہ ہے۔
بلوچ عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی اور بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔جہاں ممکن ہو معاملات مفاہمت سے طے کئے جائیں۔ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کیا جائے۔ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ تشدد مسئلے کا حل نہیں تاہم اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ لوگوں کے جان ومال سے کھیلنے والے دہشت گردوں کو ڈھیل دی جائے۔ یہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے اور دہشت گردوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔
بلوچستان کی طرح خیبر پختونخواہ بھی دہشت گردی کا شکار ہے۔یہ بات افسوس سے کہنا پڑتی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز قائم ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کررہے ہیں۔پاکستان کو چاہئے کہ وہ افغانستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر یہ معاملات اٹھائے اس کے باوجود بات نہیں بنتی تو دوست ممالک کو درمیان میں ڈالا جائے کوشش کی جائے کہ افغانستان کے ساتھ ہر صورت اخوت اور محبت کا رشتہ قائم رہے۔پاکستان نے لاکھوں افغانیوں کی میزبانی کی ہے۔ لہذا طالبان کو بھی دانشمندی اور فہم وفراست سے کام لینا چاہئے۔پاکستان اور افغانستان ایک پڑوس میں رہنے والے دو بھائی ہیں ، دونوں کے دکھ سکھ مشترک ہیں ، دونوں کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ایک پڑوسی مستحکم اور خوشحال ہوگا تو لازماََ دوسرا بھی مضبوط وخوشحال ہوگا لیکن اگر ایک کا گھر جلے گا تو اس سے اٹھنے والے شعلے دوسرے گھر کو بھی لپیٹ میں لیں گے۔ اسلئے افغانستان کو پاکستان کے راستے میں کانٹے بچھانے اور ایسے گروپوں کو اپنے ہاں ٹھکانے دینے کی روش ترک کرنا ہوگی جو پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔
دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پاکستان کو کشمیر پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ اسلئے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ پاکستان کا مستقبل اور دفاع وابستہ ہے۔اس وقت دہشت گردی ، صنعت اور زراعت کی صورت میں ہمیں جتنے بھی مسائل کا سامنا ہے ان کا تعلق براہ راست کشمیر کے ساتھ ہے۔اس سے پہلے جب تک یہ مسئلہ کشمیر کسی نہ کسی حد تک ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل رہا بھارت کو پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کی جرأت نہ ہوتی تھی جیسے ہی عمران خان کے دور میں مسئلہ کشمیر پر یوٹرن لیا گیا، مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا یا نظر بند کردیا گیا تو اس کے ساتھ ہی بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں شروع کردیں۔دوسری طرف ہماری شہ رگ بھارت کے قبضے اور پنجے میں ہے۔جبکہ ہمارا دشمن دن بہ دن اس پر اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط کرتا چلا جارہا ہے۔ ضروری ہے کہ شہ رگ کو بھارت کے قبضے اور پنجے سے آزاد کروانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔یہ بات زبانی کلامی نہیں بلکہ عملی طور پر طے کرلی جائے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ کشمیر کو اتنا ہی اہم سمجھا جائے جتنا ہمارے حکمرانوں کے نزدیک شہر ِ اقتدار اسلام آباد ہے۔اسی طرح وہ لوگ جو پاکستان کے اندرمظلوم کشمیر یوں کے ساتھ وفا کے جرم میں جیلوں میں قید یا نظر بند ہیں انہیں رہا کیا جائے اور ان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔
دہشت گردی کے خاتمہ اور مسئلہ کشمیر کے یقینی حل کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز ، حکومت ، اپوزیشن ، سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل قومی کانفرنس بلائی جائے جس میں ان مسائل کے حل لیے ’’ قومی پالیسی ‘‘ ترتیب دی جائے۔ اور پھر اسے بطور’’ قومی پالیسی ‘‘ کے ہی نافذ کیا جائے۔مزید یہ کہ ہر آنے والی حکومت اس پالیسی کی پابندی کرے۔سابقہ حکمران پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے ساتھ جو کھلواڑ کرتے رہے ہیں اس پالیسی کو بھی تبدیل کیا جائے۔
قومی پالیسی میں الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کے لیے ضابطے طے کیے جائیں۔ میڈیا کو پابند کیا جائے کہ وہ ریٹنگ کے چکر میں ہیجان اور اضطراب پیدا کرنے اور قوم کو تقسیم کرنے کی بجائے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی سازشوں ، شرارتوں اور خباثتوں کو بے نقاب کرے۔جس طرح بھارتی چینلز پاکستان کے خلاف روز پروگرام کرتے ہیں پاکستانی میڈیا کا فرض ہے کہ وہ بھی ایسے ہی پروگرام کرے۔
دشمن ایک طرف ہمارے ملک میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتیں کررہا ہے تو دوسری طرف ہم میں سیاسی اور فکری انتشار کرنے کے درپے ہے جو کہ دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ قومی پالیسی میں اس حوالے سے بھی رہنما اصول مقرر کیے جائیں۔ دشمن کی
سیاسی اور فکری انتشار کی وارداتوں کے توڑ کے لیے وفاقی وزارت اطلاعات ، صوبائی حکومتوں کی اطلاعات کی وزارتیں ، ان کے ذیلی شعبے ، نجی چینلز اور منبر ومحراب کے وارث علماء اپنا کردار ادا کریں۔
جس طرح کشمیر ہمارا قومی مسئلہ ہے ایسے ہی غزہ بھی ہمارا قومی مسئلہ ہے۔کشمیر اور غزہ باہم لازم وملزوم ہیں۔ غزہ پر اسرائیل کا حق تسلیم کرلیا جائے تو کشمیر پر بھارت کا حق تسلیم کرنا ہوگا۔ جس طرح اہل کشمیر کے ساتھ ہمارا دین اور ایمان کا رشتہ ہے ایسے ہی اہل غزہ کے ساتھ بھی ہمارا دین اور ایمان کا رشتہ ہے۔ دنیا پر یہ واضح کیا جائے کہ کشمیر۔۔۔۔کشمیریوں کا ہے تو غزہ پر صر ف فلسطینیوں کا حق ہے۔ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اس لیے بھی آواز اٹھانا ضروری ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوگا تو مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔