پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما اور خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی 314 اراکین میں سے واحد ایم این اے ہیں جو ماہانہ تنخواہ وصول نہیں کر رہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بانی اور سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت 313 قانون ساز حکومت سے تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کر رہے ہیں۔
آصفہ بھٹو کا تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ
آصف علی زرداری کی صاحبزادی اور بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ، آصفہ بھٹو زرداری نواب شاہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 207 پر بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔ جون 2023 میں ایم این اے کے طور پر حلف اٹھانے کے دو ماہ بعد انہوں نے تنخواہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے قومی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل کو خط میں لکھا تھا کہ "میں بطور ممبر قومی اسمبلی کوئی تنخواہ یا الاؤنس نہیں لینا چاہتی"۔
پارلیمنٹ میں تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ
دوسری جانب، سنی اتحاد کونسل، پی ٹی آئی اور آزاد امیدواروں نے حال ہی میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا تحریری مطالبہ کیا ہے۔منگل کے روز قومی اسمبلی نے تنخواہوں اور الاؤنسز (ترمیمی) بل 2025 منظور کر لیا، جس کے تحت قانون سازوں کی تنخواہیں 1 لاکھ 80 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئیں۔یہ بل مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی رومینہ خورشید عالم نے پیش کیا، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
پی ٹی آئی کا احتجاج
بل کی منظوری کے دوران پی ٹی آئی کے قانون سازوں نے شدید احتجاج کیا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اسمبلی کو جعلی قرار دیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انہیں چیلنج کیا کہ "اگر اسمبلی ناجائز لگتی ہے تو تنخواہیں بھی نہ لیں"۔
دیگر اسمبلیوں میں بھی مراعات میں اضافہ
واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی نے دسمبر میں اراکین، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزراء، پارلیمانی سیکریٹریز اور مشیروں کی مالی مراعات میں بڑے اضافے کا بل بھی منظور کیا تھا۔