اربیل یہود اور دو دیگر یرغمالیوں کی جلد رہائی متوقع

اربیل یہود اور دو دیگر یرغمالیوں کی جلد رہائی متوقع

اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے اور جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔

 قطر، جو اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے تصدیق کی ہے کہ اسلامک جہاد تنظیم اس ہفتے جمعہ سے پہلے تین یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جن میں سویلین یرغمالی اربیل یہود شامل ہیں۔

پسِ منظر
یرغمالیوں کی رہائی کا یہ عمل جنگ بندی معاہدے کے تحت ہونا تھا، لیکن ہفتے کے روز شیری بی باس اور ان کے دو بچوں کی رہائی اسلامک جہاد کے عدم تعاون کی وجہ سے مؤخر کر دی گئی۔ اس کے بجائے، چار فوجی خواتین کو رہا کیا گیا، جس پر اسرائیل نے احتجاج کیا اور شمالی غزہ جانے والے فلسطینیوں کے لیے نیٹزارم کوریڈور بند کر دیا۔ اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے قطر نے ہنگامی سفارتی کوششیں کیں اور اب اس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اربیل یہود اور دو دیگر یرغمالی اس ہفتے جمعہ سے پہلے رہا کیے جائیں گے۔

شیری بی باس اور ان کے بچوں کے حوالے سے خدشات
خبر میں ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ حماس کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ معاہدے میں شامل 33 یرغمالیوں میں سے تقریباً 6 ممکنہ طور پر زندہ نہیں ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان میں شیری بی باس اور ان کے دو بچے بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان زمینی حقائق
قطر کی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل اس پیش رفت کے جواب میں نیٹزارم کوریڈور کو دوبارہ کھول دے گا تاکہ بے گھر فلسطینی شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ صرف یرغمالیوں کی رہائی تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر سیاسی اور انسانی پہلو بھی ہیں۔یہ پیش رفت اسرائیل، حماس اور قطر کے درمیان پیچیدہ مذاکرات اور خطے میں جاری انسانی بحران کو مزید واضح کرتی ہے۔