امریکی گلوکارہ اور اداکارہ سیلینا گومز کو ذہنی صحت کے اسٹارٹ اپ ’ونڈر مائنڈ‘ سے متعلق ایک مقدمے کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، پانچ سرمایہ کاروں نے کمپنی کی تعمیر اور تشہیر میں اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔مقدمے کے مطابق، سرمایہ کاروں نے 2022 میں تقریباً 1.2 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ اس کمپنی کا آغاز 2021 میں ہوا، جس کا مقصد صارفین کی ذہنی صحت کے بہتر بنانے میں مدد فراہم کرنا تھا۔سیلینا گومز، جو اس کمپنی کی شریک بانی، چیف امپیکٹ آفیسر اور مارکیٹنگ کی سربراہ تھیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کو کمپنی کی قدر، ممکنہ شراکت داری، اشتہاری معاہدوں اور ایک نئی موبائل ایپ کے حوالے سے جھوٹی امیدیں دلائیں، مگر یہ منصوبے عملی طور پر کامیاب نہ ہو سکے۔
مقدمے میں سیلینا گومز کی والدہ اور سابق کاروباری شریک کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ سیلینا گومز کی والدہ نے ان الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ذاتی اخراجات کے لیے سرمایہ کاروں کی رقم استعمال نہیں کی۔دوسری جانب، مقدمے میں لگائے گئے الزامات ابھی تک عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں، اور معاملہ قانونی کارروائیوں کے مرحلے میں ہے۔