امریکی وفاقی عدالت نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دائر مقدمہ خارج کردیا ہے۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو مبینہ طور پر ہراسانی اور امتیازی سلوک سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے۔بوسٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ اسٹیرنز نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ ہارورڈ کے کیمپس میں شہری حقوق کے قانون کی خلاف ورزی جاری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ مقدمہ مارچ 2025 میں دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ یونیورسٹی میں یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو ہراسانی کا سامنا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ انہیں مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔جج نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ حکومت کے الزامات زیادہ تر 2023-24 تعلیمی سال کے دوران اسرائیلی غزہ جنگ کے خلاف ہونے والے احتجاج سے متعلق تھے، جبکہ 2025 میں پیش کیے گئے واقعات کی تعداد کم اور محدود نوعیت کی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان واقعات کی بنیاد پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہارورڈ میں شہری حقوق کے قانون کی خلاف ورزی مستقل جاری ہے۔
اس کے علاوہ، عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومتی الزامات کے ثبوت مناسب طور پر پیش نہیں کیے گئے، اور ہارورڈ کی جانب سے مبینہ ناکامیوں کے بارے میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ امریکی حکومت نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ہارورڈ نے جون 2025 میں ان قوانین کی تعمیل نہ کرنے کے بارے میں آگاہی کے باوجود مناسب اقدامات نہیں کیے۔عدالت کے فیصلے کے بعد، ہارورڈ یونیورسٹی اور وائٹ ہاؤس نے فوری تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔