ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور انتظام کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اہم سمندری گذرگاہ اب بھی ایران کے ہاتھ میں ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق، بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے اور جو لوگ اس کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوئی جہاز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں گزرے گا، چاہے عمان کے ساتھ مذاکرات طے پا چکے ہوں۔طائب کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور بحری آمدورفت کا تنازع شدت اختیار کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کو اس اہم راستے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، مگر ایران اس مؤقف کو مسترد کر رہا ہے۔اس تنازع کے پیچھے قانونی اور جغرافیائی پہلو بھی اہم ہیں۔ آبنائے ہرمز تقریباً 21 ناٹیکل میل چوڑی ہے اور اس کے کچھ حصے ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں آتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی بین الاقوامی حیثیت پیچیدہ ہو گئی ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور خلیج عمان سے ملاتی ہے، اور دنیا کی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کی اہمیت کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کا اثر عالمی تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور انشورنس پر پڑ رہا ہے۔حالیہ حالات میں، تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں کمی آئی ہے اور کئی کمپنیوں کو ایرانی حملوں، امریکی ناکہ بندی اور جنگی خطرات کے سبب راستہ بدلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس تنازع کا حل ابھی تک واضح نہیں ہے، مگر دونوں طرف سے اپنی اپنی موقف اور کارروائیاں جاری ہیں۔