آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، ایران کے ساتھ معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، ایران کے ساتھ معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس وقت کوئی دوسرا ملک اس اہم سمندری گزرگاہ پر امریکا کے مقابلے میں مؤثر کنٹرول نہیں رکھتا۔

 اوہائیو کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کی حالیہ صورتحال کو بھی اپنے لیے مثبت قرار دیا اور کہا کہ ایران کے حوالے سے حالات ’بالکل ٹھیک‘ جا رہے ہیں۔ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا کہ ’’ہم مکمل طور پر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتے ہیں، کوئی اور نہیں، صرف ہم۔‘‘ انہوں نے ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اسے شدید ردعمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال امریکا خطے میں ایک ’’بہت اچھی پوزیشن‘‘ میں ہے۔امریکی صدر نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں ایک طاقتور اور اثرانداز ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران گزشتہ دہائیوں سے خطے میں اپنی طاقت کا استعمال کرتا رہا ہے، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب مشرق وسطیٰ میں پہلے جیسی بالادست حیثیت نہیں رکھتا اور امریکا نے خطے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ اس علاقے میں کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور بحری تجارت پر پڑتا ہے۔ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی منڈیوں میں توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔