امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کی طویل مدت کی تعیناتی اور ذہنی دباؤ میں اضافے کے باعث تشویشناک صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، تقریباً 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل یہ جہاز نومبر 2025 میں امریکا سے روانہ ہوا، اور اب یہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس دوران عملہ کو کئی مہینوں تک سمندر میں گزارنا پڑا، جس سے ان میں تھکن، ذہنی دباؤ اور حوصلہ شکنی کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ چند اہلکاروں نے سمندر میں کودنے کی کوشش کی، جن میں سے ایک واقعے میں ایک اہلکار نے مبینہ طور پر اپنے ساتھی کو بھی ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اہل خانہ اور قانون سازوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، جہاز پر بنیادی سہولیات، خوراک، پانی اور صفائی کے مسائل کا ذکر کیا ہے۔امریکی حکام اور بحریہ کا موقف ہے کہ حالات کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، اور وہ اپنے اہلکاروں کو ضروری مدد فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، اہل خانہ کے مطابق، مسلسل تعیناتی اور سہولیات کی کمی سے اہلکار ذہنی اور جسمانی لحاظ سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر، امریکی حکام نے کہا ہے کہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے تاکہ ابراہم لنکن کی جگہ لے سکے۔ یہ تبدیلی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھی، مگر موجودہ حالات نے اس کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔ایران سے جاری جنگی کارروائیوں کے دوران، امریکی فوجیوں پر جسمانی اور ذہنی صحت کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اہلکاروں کی صحت، جنگ کے میدان میں جاری فوجی کارروائیوں اور مسلسل تعیناتی کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی اور فوجی حکام کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔