متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں سانحہ گل پلازا سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ میں 100 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے تھے، اور اس سانحے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن بنایا گیا تھا۔ فاروق ستار کے مطابق، ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اس انکوائری میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی تھی تاکہ حقائق سامنے آئیں، مگر کمیشن نے ایم کیو ایم کو سننے سے انکار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کے بجائے بند لفافے میں وزیرِ اعلیٰ سندھ کو بھیجا گیا، اور پھر اسے کابینہ میں پیش کیا گیا، مگر عوام سے اسے چھپایا گیا۔ فاروق ستار نے کہا کہ رپورٹ کو پبلک کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ سانحہ ایک بڑا اور اہم واقعہ ہے، اور اس سے متعلق معلومات عوام کے جاننے کا حق ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ رپورٹ کو وزیرِ داخلہ ضیاء لنجار کے حوالے کیا گیا تاکہ اس پر عملدرآمد کیا جا سکے، مگر اصل میں یہ رپورٹ غفلت اور لاپرواہی کا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ میں تاخیر اور غفلت سے کام لیا گیا، اور آگ بجھانے میں بھی تاخیر ہوئی۔ اس لیے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔