وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان کو پولیو فری بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے اور دسمبر 2025ء تک اس ہدف کو حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اس بار انسدادِ پولیو مہم کو نہ صرف قومی سطح پر بلکہ افغانستان کے ساتھ ہم آہنگی سے چلایا جا رہا ہے، جو اس مسئلے کی بین الاقوامی نوعیت کو سمجھنے اور اس کا جامع حل نکالنے کی ایک کوشش ہے۔
اہم نکات:
دسمبر 2025 کا ہدف:
وزیر صحت نے کہا کہ رواں سال کے اختتام تک پاکستان کو پولیو فری بنایا جائے گا، جو ایک بڑا اور قابل تحسین ہدف ہے۔
پاکستان و افغانستان میں ایک ساتھ مہم:
افغانستان اور پاکستان دنیا کے واحد دو ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو موجود ہے۔اس بار دونوں ممالک میں ایک ہی دن، یعنی 21 اپریل سے پولیو مہم کا آغاز ہوگا۔
پولیو کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں:
مصطفیٰ کمال نے یہ واضح کیا کہ پولیو ویکسین مذہب کے خلاف نہیں، بلکہ یہ حج و عمرہ جیسے مذہبی مواقع پر بھی لازم ہے۔
پولیو ویکسین کی فراہمی:
پاکستان پولیو ویکسین براہ راست خود نہیں خریدتا بلکہ یہ ویکسین UNICEF کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے، جو شفافیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ہیلتھ ورکرز کا کردار:
ملک بھر میں 4,25,000 ہیلتھ ورکرز اس مہم میں شریک ہوں گے۔ان کی قربانی اور خدمات کو سراہا گیا، خاص طور پر ان خطرات کے باوجود جو وہ اٹھا رہے ہیں۔
سیوریج ٹیسٹ میں وائرس کی موجودگی:
ملک کے مختلف علاقوں میں سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ وائرس اب بھی موجود ہے، لیکن ویکسین ہی واحد حل ہے۔
قوم کا اتحاد:
وزیر صحت نے اس مسئلے پر قومی اتحاد کی مثال دی، جس میں تمام صوبائی وزرائے صحت یک زبان ہو کر مہم میں شریک ہیں۔
والدین سے اپیل:
انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ وہ بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ پاکستان اس مرض سے نجات حاصل کر سکے۔