بیٹی کی خودمختار شادی برداشت نہ کرپانے والے باپ نے خودکشی کرلی

بیٹی کی خودمختار شادی برداشت نہ کرپانے والے باپ نے خودکشی کرلی

بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے شہر اندور میں ایک المناک واقعے نے خاندانی تنازعات اور قانونی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے۔

 49 سالہ میڈیکل اسٹور مالک رشی راج سنجو نے اپنی بیٹی ہرشیتا کی من پسند شادی کے فیصلے کو برداشت نہ کرتے ہوئے گولی مار کر خودکشی کر لی۔

واقعے کی تفصیلات:
ہرشیتا تقریباً 15 دن قبل ایک نوجوان کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی، جسے بعد میں اندور سے بحال کیا گیا۔عدالت میں پیشی کے دوران ہرشیتا نے واضح کیا کہ وہ اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اسے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔رات تقریباً 1 بجے گھر والوں نے گولی چلنے کی آواز سنی۔ کمرے میں داخل ہونے پر رشی راج کو گولی لگنے سے مردہ پایا گیا۔پولیس کو ملنے والے خودکشی نوٹ میں رشی راج نے لکھا:"ہرشیتا، تم نے غلط کیا۔ میں جا رہا ہوں۔ میں تم دونوں کو مار سکتا تھا، لیکن بیٹی کو کیسے مار سکتا تھا؟ تم نے جو کیا وہ ٹھیک نہیں تھا۔ ایک پورا خاندان تباہ ہو گیا۔"
قانونی نظام پر تنقید:
رشی راج نے نوٹ میں عدالتی فیصلے پر بھی سوال اٹھایا:"اگر شادی درست نہیں تھی، تو عدالت نے بیٹی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت کیسے دی؟"
سماجی ردعمل:
واقعے کے بعد علاقے میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔خاندانی تشدد، خود مختار شادیوں اور والدین کے جذباتی دباؤ جیسے مسائل پر بحث چھڑ گئی ہے۔پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے، لیکن ابتدائی طور پر اسے خودکشی قرار دیا گیا ہے۔
نتیجہ:
یہ واقعہ خاندانی رشتوں، سماجی دباؤ اور قانونی نظام کے درمیان کشمکش کو واضح کرتا ہے۔ بیٹی کے فیصلے نے باپ کو جذباتی طور پر اس قدر مجبور کر دیا کہ اس نے زندگی کو خیرباد کہہ دیا، جس نے معاشرے میں ایک بار پھر انفرادی آزادی اور خاندانی اقدار کے درمیان توازن پر بحث چھیڑ دی ہے۔