برطانیہ میں پناہ گزین اپیلوں کے فیصلے تیز کرنے کے لیے نیا خودمختار ادارہ قائم

برطانیہ میں پناہ گزین اپیلوں کے فیصلے تیز کرنے کے لیے نیا خودمختار ادارہ قائم

برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پناہ گزینوں کی اپیلوں کے فیصلے جلد کرنے اور زیر التوا مقدمات (بیک لاگ) کو ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی۔

 اس مقصد کے لیے ایک نیا خودمختار ادارہ قائم کیا جائے گا جو خصوصی طور پر پناہ گزین اپیلوں پر توجہ دے گا۔یہ اقدام ہوم آفس اور وزارت انصاف کی مشترکہ کوشش ہے تاکہ نظام کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکے، ناکام درخواست گزاروں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے اور مہنگے ہوٹلوں کے استعمال کا خاتمہ ہو۔

حالیہ صورتحال:

پہلی سطح کے ٹریبونل (First-Tier Tribunal) میں 1,06,000 کیسز زیر التوا ہیں، جن میں سے 51,000 سے زیادہ پناہ گزین اپیلیں ہیں۔اوسط انتظار کا دورانیہ 53 ہفتے تک پہنچ چکا ہے۔نیا ادارہ مکمل طور پر حکومت سے آزاد ہوگا اور اس میں پیشہ ور تربیت یافتہ ایڈجوکیٹرز تعینات کیے جائیں گے جو صرف پناہ گزین اپیلوں پر توجہ دیں گے۔ ادارہ یہ بھی اختیار رکھے گا کہ وہ پناہ گزین رہائش گاہوں میں مقیم افراد اور غیر ملکی مجرموں کے کیسز کو ترجیح دے۔حکومت نے پہلی سطح کے ٹریبونل میں پناہ گزین اور غیر ملکی مجرموں کی اپیلوں کو 24 ہفتوں کے اندر نمٹانے کے لیے نئی قانونی شرط بھی متعارف کروائی ہے۔

ہوم سیکریٹری یویٹ کوپر نے کہا کہ وراثت میں ملنے والا نظام تباہ حال تھا، بیک لاگ بڑھ رہا تھا اور اپیلوں میں سالہا سال لگ جاتے تھے۔ گزشتہ 12 ماہ میں ابتدائی فیصلوں کے بیک لاگ کو 24 فیصد کم کیا گیا اور ناکام پناہ گزینوں کی واپسی میں 30 فیصد اضافہ ہوا، مگر اپیلوں میں تاخیر اب بھی برقرار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپیلوں کے نظام کو تیز، منصفانہ اور معیاری بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور رواں خزاں میں مزید منصوبوں کی تفصیلات جاری کی جائیں گی، دیگر یورپی ممالک کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔