گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ماہ سے افراطِ زر (مہنگائی) میں اضافہ متوقع ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی معاشی صورتحال اور بیرونی ادائیگیوں سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
بیرونی ادائیگیاں:
جمیل احمد کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران 26 ارب ڈالرز کی بیرونی ادائیگیاں درپیش ہیں، جن میں سے:16 ارب ڈالرز کی رقم رول اوور یا ری فنانس کی جائے گی.10 ارب ڈالرز کی باقی رقم میں سے 8 ارب ڈالرز کی ادائیگی پہلے ہی کی جا چکی ہے
افراطِ زر اور معیشت:
گورنر اسٹیٹ بینک نے اعتراف کیا کہ مہنگائی میں آئندہ ماہ سے اضافہ متوقع ہے، تاہم انہوں نے معیشت کی بحالی کی امید بھی ظاہر کی۔
جی ڈی پی گروتھ کی پیش گوئی:
مالی سال 2025 کے اختتام تک جی ڈی پی نمو 2.5 سے 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے.اگر زرعی شعبے میں بہتری آتی ہے تو معاشی نمو 4.2 فیصد تک بھی جا سکتی ہے
جمیل احمد نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، تاہم زرعی ترقی، مالی نظم و ضبط اور بیرونی مالی معاونت سے معاشی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف سے نئے پروگرام کے لیے مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے، اور ملک کو درپیش معاشی دباؤ، بالخصوص مہنگائی اور کرنسی کے استحکام، پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔