ثناء جاوید
ڈینگی وائرس ایک ایسا وائرس ہے جو مچھروں (خاص طور پر مادہ ایڈیز ایجپٹائی مچھر) کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور ڈینگی بخار، شدید ڈینگی (ڈینگی ہیمرجک فیور) اور ڈینگی شاک سنڈروم جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ وائرس دنیا کے گرم اور مرطوب (ٹراپیکل اور سب ٹراپیکل) ممالک، مثلاً پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکا وغیرہ میں زیادہ پایا جاتا ہے، ڈینگی وائرس فلیوی وائرس خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک آر این اے وائرس ہے، جس کی چار اقسام/سیرو ٹائپس ہوتی ہیں: DEN-1، DEN-2، DEN-3 اور DEN-4،ایک قسم کا انفیکشن ہونے کے بعد اس خاص قسم کے خلاف کچھ حد تک مدافعت بنتی ہے، لیکن باقی اقسام کے خلاف تحفظ نہیں بنتا، اس لیے زندگی میں بار بار ڈینگی ہوسکتا ہے اور اگلی بار بیماری زیادہ شدید بھی ہو سکتی ہے، ڈینگی وائرس متاثرہ ایڈیز مچھر کے کاٹنے سے خون میں داخل ہوتا ہے؛ یہ مچھر عموماً دن کے وقت، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں کاٹتا ہے۔
ڈینگی کا مچھر عام طور پر گرم اور نم علاقوں میں خاص طور پر شہروں اور نیم شہری (urban / semi-urban) علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے، اور اس کی سرگرمی مون سون اور اس کے فوراً بعد کے مہینوں میں بڑھ جاتی ہے، یہ مچھر زیادہ تر گھروں کے اندر اور آس پاس صاف لیکن رکا ہوا پانی (گملے، ٹینکی، ٹائر، کولر، بالٹی وغیرہ) میں پیدا ہوتا ہے، اس لیے گنجان آباد شہروں اور کچی آبادیوں میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، ڈینگی کا مچھر 20 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیانی درجہ حرارت اور نمی والے موسم میں بہت تیزی سے بڑھتا ہے، جبکہ شدید گرمی یا شدید سردی میں اس کی افزائش کم ہو جاتی ہے، پاکستان اور پڑوسی ممالک میں اس کے کیسز عام طور پر مون سون کی بارشوں کے بعد اگست سے دسمبر تک زیادہ دیکھے جاتے ہیں، کیونکہ بارشوں سے کھڑا پانی جمع ہو جاتا ہے جو مچھر کی افزائش کے لیے بہترین ماحول بناتا ہے۔
ڈینگی مچھرخطرناک ہوتا ہے،یہ ڈینگی وائرس پھیلا کر جان لیوا بخار اور پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے جسم میں وائرس داخل ہوتا ہے جو تیز بخار، شدید سر اور جسم درد، متلی اور کمزوری کا سبب بنتا ہے، بعض مریضوں میں یہ بیماری بگڑ کر خون بہنے، اندرونی بلیڈنگ، بلڈ پریشر گرنے اور شاک کی حالت تک پہنچ سکتی ہے جو موت کا سبب بن سکتی ہے، بروقت تشخیص اور ہسپتال سے مناسب علاج سے زیادہ تر مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں، اس لیے تاخیر کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ڈینگی کا مچھر واقعی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر مریض بروقت تشخیص اور صحیح دیکھ بھال سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، ڈینگی کی شدید شکلیں، جیسے ڈینگی ہیمرجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم، خون رسنے، بلڈ پریشر گرنے اور اعضاء فیل ہونے کی وجہ سے موت کا سبب بن سکتی ہیں اگر فوری علاج نہ ہو، شدید ڈینگی کا خطرہ ان لوگوں میں زیادہ ہو سکتا ہے جنہیں پہلے بھی ڈینگی ہو چکا ہو، یا جنہیں بروقت ہسپتال نہ پہنچایا جائے، اگرڈینگی کے ساتھ یہ علامات ہوں جیسے مسلسل یا بڑھتا ہوا شدید پیٹ درد ، الٹی، خاص طور پر بار بار ، ناک، مسوڑھوں یا پاخانے میں خون ،بہت زیادہ کمزوری، چکر آنا، سانس پھولنا، یا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونا شامل ہوتوفوری ہسپتال جائیں کسی بھی خطرناک علامت پر تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
ڈینگی کا موسمی پیٹرن دنیا کے مختلف خطوں میں وہاں کے موسم اور درجہ حرارت کے مطابق بدلتا رہتا ہے، لیکن عمومی اصول یہ ہے کہ جہاں گرمی اور نمی زیادہ ہو اور بارشوں سے پانی جمع ہو، وہاں کیسز بڑھ جاتے ہیں،جن ملکوں میں سارا سال گرمی اور نمی رہتی ہے (جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکا وغیرہ) وہاں ڈینگی تقریباً سال بھر موجود رہ سکتا ہے، لیکن سب سے زیادہ اضافہ بارشوں کے موسم اور اس کے فوراً بعد ہوتا ہے،مسلسل نم موسم اور بارشوں کی وجہ سے مچھر کی افزائش کے لیے کھڑا پانی ہمہ وقت دستیاب رہتا ہے، اس لیے وہاں ڈینگی کی لہر ایک لمبے عرصے تک چل سکتی ہے، بعض جگہوں پر سال میں ایک سے زیادہ‘‘پیک سیزن’’بھی دیکھے جاتے ہیں،جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت معتدل حد تک اوپر جاتا ہے اور سردیوں میں ٹھنڈ زیادہ ہوتی ہے (مثلاً پاکستان کے بہت سے حصے، بھارت کے شمالی علاقے، چین کے کچھ علاقے وغیرہ) وہاں ڈینگی زیادہ تر گرمی کے آخر، مون سون اور خزاں کے شروع کے مہینوں میں بڑھتا ہے، جبکہ سردیوں میں کیسز واضح طور پر کم ہو جاتے ہیں، ان علاقوں میں اگست سے اکتوبر / نومبر تک کا عرصہ زیادہ خطرناک مانا جاتا ہے، کیونکہ بارشوں کے بعد بڑا حصہ کھڑے پانی اور مناسب درجہ حرارت پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی درجہ حرارت کافی نیچے آتا ہے مچھر کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، بڑے شہروں اور گھنی آبادی والے علاقوں میں جہاں صاف لیکن رکا ہوا پانی (کولر، ٹینکی، ٹائر، گملے) زیادہ ہوتا ہے، وہاں ڈینگی کے موسمی پیٹرن میں تیزی سے اور اچانک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، یعنی بارشوں کے چند ہفتوں بعد ہی کیسز کی تعداد بہت اوپر جا سکتی ہے،دیہی علاقوں میں بارشوں، سیلاب یا نہری نظام کے ساتھ مچھر کی افزائش کے الگ پیٹرن بن سکتے ہیں، اس لیے ایک ہی ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں میں ڈینگی کی چوٹی (peak season) کے مہینے بھی ایک جیسے نہیں رہتے،عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت بڑھنے اور بارشوں کے انداز بدلنے سے کئی خطوں میں ڈینگی کا موسم لمبا ہو رہا ہے اور کچھ نسبتاً ٹھنڈے علاقوں میں بھی ڈینگی کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں، جہاں پہلے صرف چند مہینوں میں کیسز ہوتے تھے وہاں اب مچھر کی سرگرمی اور وائرس کی منتقلی کا دورانیہ زیادہ لمبا اور غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے۔