ندیم ملک
یہ سوال اب کسی ایک فرد، ایک طبقے یا ایک شہر تک محدود نہیں رہا۔ یہ سوال آج پاکستان کے ہر گلی کوچے، ہر کچے پکے گھر، ہر دفتر، ہر دکان اور ہر دل میں گونج رہا ہے۔ جب بجلی کا بل ہاتھ میں آتا ہے، جب آٹے کی قیمت سنائی دیتی ہے، جب بچوں کی فیس بڑھنے کی خبر ملتی ہے، جب دوا خریدنے کے لیے جیب ٹٹولی جاتی ہے تو زبان پر بے ساختہ یہی الفاظ آتے ہیں سب سے پہلے بات بجلی کی، جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ واپڈا ہو یا تقسیم کار کمپنیاں، صارف کے لیے سب ایک ہی چہرہ رکھتے ہیں: بے حسی، بدانتظامی اور بے رحم بلنگ۔ ایک طرف گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ، دوسری طرف ہزاروں اور لاکھوں روپے کے بل۔ میٹر خراب ہو تو بھی صارف قصوروار، ریڈنگ غلط ہو تو بھی صارف مجرم، لائن لاسز ہوں یا چوری سارا بوجھ آخرکار غریب اور متوسط طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ شکایت کے لیے دفتر جائیں تو اہلکاروں کے رویے ایسے جیسے احسان مانگا جا رہا ہو۔ ریاست اگر اپنے شہری کو بنیادی سہولت بھی عزت کے ساتھ فراہم نہیں کر سکتی تو پھر شہری کہاں جائے؟ مہنگائی نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ آٹا، چینی، دال، گھی، سبزیاں کچھ بھی عام آدمی کی پہنچ میں نہیں رہا۔ تنخواہیں وہی ہیں، مگر اخراجات دوگنے نہیں بلکہ کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے، جو نہ مانگ سکتا ہے نہ دکھا سکتا ہے۔ جو کل تک اپنے بچوں کو بہتر تعلیم کا خواب دکھاتا تھا، آج انہیں سستے اسکول یا مدرسے میں داخل کروانے پر مجبور ہے۔ علاج معالجہ اب ضرورت نہیں بلکہ عیاشی سمجھا جانے لگا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں سہولتیں ناپید، نجی اسپتالوں کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں
نوجوانوں کی حالت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ میرٹ کی بات ہر تقریر میں ہوتی ہے، مگر عملی زندگی میں سفارش، تعلق اور طاقت ہی سب کچھ ہے۔ سرکاری نوکریاں خواب بن چکی ہیں اور نجی شعبہ اتنی کم تنخواہ دیتا ہے کہ گزارا ممکن نہیں۔ ایسے میں نوجوان یا تو ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے یا پھر ملک چھوڑنے کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ خواب اکثر سمندر میں دفن ہو جاتے ہیں اور لاشیں ساحلوں پر آ لگتی ہیں دیہی علاقوں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ کسان کو فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا، کھاد اور بجلی مہنگی، پانی ناپید، جبکہ منڈی میں مڈل مین سب کچھ سمیٹ لیتا ہے۔ شہری علاقوں میں مزدور صبح سے شام تک مشقت کے بعد بھی دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔ رکشہ ڈرائیور، ریڑھی بان، دکاندار سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں، جو طوفان میں گھر چکی ہے
ریاست کی ذمہ داری صرف ٹیکس جمع کرنا اور اعداد و شمار جاری کرنا نہیں ہوتی۔ ریاست کا کام شہری کو تحفظ، سہولت اور امید دینا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں امید سب سے مہنگی شے بن چکی ہے۔ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی بات برسوں سے ہو رہی ہے، مگر عملی اقدامات ناپید ہیں۔ لائن لاسز کم کرنے، کرپشن روکنے، چوری کے اصل ذمہ داروں کو پکڑنے کے بجائے آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے: بل بڑھا دو۔ یہی روش دیگر شعبوں میں بھی نظر آتی ہے میڈیا اور صحافت کا کردار ایسے وقت میں بہت اہم ہو جاتا ہے۔ صحافی کا قلم محض خبر دینے کا ذریعہ نہیں، یہ عوام کی آواز ہوتا ہے۔ اگر یہ آواز دب جائے یا کمزور پڑ جائے تو ظلم مزید مضبوط ہو جاتا ہے یہ بات بھی ضروری ہے کہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے اجاگر کیا جائے، سوال اٹھائے جائیں اور اقتدار کے ایوانوں تک عوام کی فریاد پہنچائی جائے تاہم ہمیں خود بھی بطور قوم اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ بجلی چوری، ٹیکس چوری، قانون شکنی یہ سب ہمارے مسائل کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ مگر یہ سب اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب نظام منصفانہ ہو اور شہری کو یہ یقین ہو کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جب بڑے مگرمچھ بچ نکلیں اور چھوٹے پکڑے جائیں تو اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور ٹوٹا ہوا اعتماد سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے اس بابت ریاست سیاست دان، بیوروکریسی اور ہم سب کو مل کر سوچنا چاہیے کہ اس ملک کے عام شہری کو جینے کے قابل حالات کیسے فراہم کیے جائیں۔ ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی