لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی صورتحال اور اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیاقت بلوچ نے اسد قیصر کو یقین دہانی کرائی کہ جماعت اسلامی اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گی۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور اس کے بعد سیاسی قیادت کی گرفتاریوں کی مذمت بھی کی۔نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت کے اس اقدام کو بدنیتی پر مبنی سمجھتی ہے اور اسے آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا آپشن بھی زیر غور آ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ آئین کے مبینہ غلط استعمال کی غلطی تسلیم کرے۔لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت سنگین اقدامات واپس لے اور اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ ان کے مطابق اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی، راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال میں حکومت کی جانب سے مذاکرات سے انکار غیر جمہوری اور آمرانہ رویہ ہوگا۔