ملزم نے جعلی شناخت بنا کر امریکی ویزے کا جھانسہ دیا، لاکھوں روپے ہتھیائے
اسلام آباد (کرائم رپورٹر) لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم نعمان نے طالبہ کو دھوکا دینے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے جعلی شناختیں بنائیں اور امریکا کا ویزا دلوانے کا جھانسہ دیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم نعمان 2022 تک 15 سال محکمہ اینٹی کرپشن میں ملازم رہا، تاہم غیرحاضری پر اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔ بعد ازاں وہ مختلف انشورنس کمپنیوں میں منیجر کے طور پر کام کرتا رہا اور 2025 میں بلیو ایریا کی ایک انشورنس کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کا لائبہ سے پہلا رابطہ مارچ 2023 میں ہوا، جب اس نے انشورنس کمپنی میں انٹرن شپ کے لیے درخواست دی۔ بعد میں ملزم نے لائبہ، اس کی بہن اور والدہ کو ٹک شاپ کی تشہیر کے کام پر رکھ لیا۔ ذرائع کے مطابق عائزہ نامی لڑکی ٹک شاپ کا انتظام کرتی تھی اور اس کا بھائی امریکا میں مقیم تھا۔ لائبہ نے امریکی ویزے کے حصول میں مدد مانگی تو ملزم نے عائزہ کے نام سے ایک جعلی اکائونٹ بنا کر اس کے اور اس کے بھائی کے طور پر بات چیت شروع کردی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ان کرداروں کے ذریعے لائبہ کو جعلی دستاویزات بھیجیں اور انٹرویو کی تاریخیں یکم، 17 اور 26 ستمبر بتائیں۔ بعدازاں لائبہ کو شک ہوا تو اس نے دستاویزات کی جانچ کی، جو جعلی نکلیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لائبہ نے اپنے والد سے 21 لاکھ روپے مالیت کا پلاٹ فروخت کروا کر حاصل ہونے والی رقم کے علاوہ اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی ملزم کو دیے تھے۔ لائبہ نے ملزم سے زیورات واپس کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم اس نے رابطہ منقطع کردیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کے بعد لائبہ نے خودکشی کرلی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم نے دیگر خواتین کے ساتھ بھی فراڈ کیا، جبکہ گرفتاری میں تاخیر کے دوران اس نے مبینہ طور پر اپنے موبائل فون کا ڈیٹا حذف کردیا۔ حکام کے مطابق فون کا فرانزک تجزیہ کرکے ڈیٹا بحال کرنے اور مزید ممکنہ متاثرین کی نشاندہی کی کوشش کی جائے گی۔