پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی نظربندی، سماعت،لیگی رکن کی حراست کا بھی انکشاف

 اب ن لیگ والے کا کیا کرنا ہے؟ اسکی نظر بندی میں بھی توسیع یا چھوڑنا ہے؟جسٹس خادم حسین سومرو  
اسلام آباد (آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے دو ارکان قومی اسمبلی عادل بازئی اور داوڑ کنڈی کی تھری ایم پی او کے تحت حراست کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران اہم انکشاف کیاگیاہے کہ ن لیگی کارکن صداقت اللہ بھی نظر بندکردیئے گئے ہیں، وکیل نے بتایا وہ عادل بازئی کا دوست ہے، ملنے آیا تو اٹھا لیا گیا۔ جسٹس خادم سومرو نے استفسار کیا کہ اب ن لیگ والے کا کیا کرنا ہے؟ اسکی نظر بندی میں بھی توسیع کی ہے یا چھوڑنا ہے؟ جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی، جس میں پی ٹی آئی رہنماں کی جانب سے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے، دونوں ارکان قومی اسمبلی نے ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے جاری حراستی احکامات کو چیلنج کر رکھا ہے۔سماعت کے دوران بیرسٹر بابر اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے ایسے فیصلے موجود ہیں جن میں اسی نوعیت کے حراستی احکامات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایک اے ایس آئی کو یہ اطلاع مل جاتی ہے کہ دو ارکان قومی اسمبلی امن و امان کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔بابر اعوان نے مزید کہا کہ یہ بنانا ریپبلک نہیں ہے اور دعوی کیا کہ دونوں ایم این ایز کو پارلیمنٹ لاجز سے اٹھایا گیا۔جسٹس خادم حسین سومرو نے بابر اعوان کو ہدایت کی کہ جن عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کی نقول دوپہر ایک بجے سے پہلے عدالت میں فراہم کی جائیں