انتہائی قدم لینے کے سوا ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہ گیا تھا‘ اپوزیشن کے احتجاج کی کال کے بعد کوئی مسائل پیدا نہیں ہوں گے
اسلام آباد (آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے ایمرجنسی اور گورنر راج سے قبل ہم نے سارے آپشن استعمال کیے، پی ٹی آئی اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ طویل بات چیت کی۔ پارلیمنٹ ہائوس میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جہاں بھی یہ گئے وہاں سے جو آوازیں آئیں وہ پاکستان کے خلاف تھیں، ان کے مارچ میں کونسی ایسی بات تھی جس سے لگے جلوس نکلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پاکستان کے خلاف مارچ کے نام پر مہم شروع کی ہوئی تھی، پاکستان کے ساتھ وفاداری کا اظہار کسی ایک نے بھی نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کو ٹارگٹ کیا ہوا تھا، پاکستان میں پہلے بھی ایمرجنسی لگتی رہی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ کے پی میں ان کی 13 سال سے حکومت ہے، وہاں کیا بہتری آئی، کیا کے پی میں معاشی استحکام آیا؟ کیا وہاں دہشتگردی کم ہوئی؟ ۔خواجہ آصف نے کہا انتہائی قدم لینے کے سوا ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہ گیا تھا، یہ انتہائی قدم ضرور ہے لیکن آئینی اور قانونی ہے، یہ کہتے تھے 40 لاکھ بندہ نکلے گا، 4 لاکھ ہی اس کے بعد نکل آتا۔ انہوں نے کہا کہ 4 لاکھ تو کیا 40 ہزار یا 4 ہزار بندہ بھی نہیں نکلا، اس قسم کے حالات پاکستان کی وحدت اور اکائی کو تھریٹ کر رہے تھے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا ٹائم فریم آئین اور قانون کے مطابق ہوگا، اپوزیشن کے احتجاج کی کال کے بعد کوئی مسائل پیدا نہیں ہوں گے