خیبرپختونخوا میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں پہلی بار ایک پیج پر ہیں‘ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کو خود قیادت کرنا ہوگی‘جنگ عملی اقدامات سے جیتی جا سکتی ہے:محسن نقوی

اپیکس کمیٹی اجلاس خیبرپختونخوا میں آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ پی ٹی آئی کارکنوں کیخلاف کریک ڈائون‘سینکڑوں گرفتار
پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کیلئے جدید آلات، اسلحہ اور ضروری وسائل فراہم کئے  جائیں گے، عوام کی تعلیم، صحت اور معیار زندگی سے متعلق مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے گی: اپیکس کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ
امن خراب کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، خیبرپختونخوا کے فیصلے اب جلال آباد نہیں اسلام آباد سے ہوں گے ‘13سال کرپشن کرنے والے گرفتار ہوں گے جن کے خلاف مقدمات ہیں انہیں  حراست میں لیا جائیگا:گورنر فیصل کریم
پشاور‘صوابی(آئی این پی‘آئی این پی)خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ضلع صوابی میں پولیس نے کریک ڈائون تیز کردیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں پاکستان تحریک انصاف  کے اب تک 169 کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گرفتاریاں شیوہ اڈہ، یارحسین، رزڑ، صوابی خاص، ٹوپی، لاہور، گدون اور ضلع کے دیگر علاقوں میں کی گئی ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد میں پی ٹی آئی کے کئی مقامی عہدیداران اور متحرک کارکن بھی شامل ہیں، جنہیں مختلف مقامات سے کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا‘دریں اثناء  خیبرپختونخو میں انتظامی و عسکری ڈھانچے کو متحرک کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جن کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کرنے اور عوامی فلاحی امور پر توجہ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ اہم فیصلے گورنر خیبرپختونخواہ فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیے گئے، اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی، جہاں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی اور انتظامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا، اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں سیکیورٹی اداروں کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے بھی اہم منظوری دی گئی، پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی پیشہ ورانہ استعداد کار کو بڑھانے کے لیے انہیں جدید ترین آلات، اسلحہ اور تمام ضروری وسائل فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا  خیبرپختونخوا میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں، سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ ریاست نے ہم پر اعتماد کیا ہے تو ہمیں اپنی کارکردگی سے فرق واضح کرنا ہوگا۔ دائیں بائیں توجہ دینے کے بجائے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور محدود وسائل کے باوجود صوبے میں ترقیاتی کام نظر آنے چاہئیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں پہلی بار ایک پیج پر ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے مشکل کام سیکیورٹی اہلکاروں نے کیا ہے، جنہیں وہ بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مشکل حالات میں اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت کرنے والے مقامی لوگوں کی ہمت کو بھی سلام پیش کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کو خود قیادت کرنا ہوگی۔ یہ جنگ صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے جیتی جا سکتی ہے۔ کسی بھی جنگ میں وسائل کے ساتھ مقامی حکومت کی مؤثر قیادت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں یہی سیکیورٹی فورسز بہتر نتائج دے سکتی ہیں، فرق صرف حکومتی قیادت کا ہوگا۔ حکومت قیادت کرے گی تو سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں گی۔ مشکل وقت آسکتا ہے، تاہم سب کو مل کر حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی فورسز مل کر کام کریں گی‘اجلاس کے بعد پریس کانفر نس میں فیصل کریم نے کہا امن خراب کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، خیبرپختونخوا کے فیصلے اب اسلام آباد سے ہوں گے جلال آباد سے نہیں، 13 سالوں میں کرپشن کرنے والے گرفتار ہوں گے اور جن کے خلاف مقدمات ہیں انہیں بھی حراست میں لیا جائے گا۔ آئی جی چیف سیکرٹری سے کہا ہے  پولیس کی تنخواہیں بڑھائیں، فورسز کے لیے شہداء￿  کا پیکیج بڑھا رہے ہیں۔گورنر کے پی نے کہا کہ وہ زمانے چلے گئے جب وفاق سے لڑا جاتا تھا، صوبے میں اندھیرا گزر گیا اب اجالا ہوگا