آپریشن نہیں کرناتوکیادہشتگردوں کی بیعت کرلیں؟ترجمان پاک فوج
خوارج سے کوئی بات نہیں ہونی‘ نہ انہیں کوئی سپیس دینی ہے‘ صرف فوج کی جنگ نہیں، یہ قوم کے بچے بچے کی جنگ ہے، دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ گھروں، بازاروں، گلیوں، دفتروں میں آکر پھٹیں گے
دہشتگردوں کا باپ ایک ہی ہے اور وہ ہے افغانستان‘شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں، یہ خطے کی سلامتی کے لئے ایک سنجیدہ خطرہ ہے جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہئے
دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوامیں ہوئے، وہاں دہشتگردوں کو سازگارسیاسی ماحول فراہم کیاجاتا ہے ‘ وہاں سیاسی اوردہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پارہا ہے‘دہشت گردی کیخلاف جنگ طاقت سے جیتیں گے
کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشونہیں ‘، سیاست،سیاسی جماعتوں کا کام ہے وہ بحران کا حل نکالیں‘ کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے
بھارتی ٹی وی پر بیٹھ کر ایک صاحب کہتے ہیں اس بار افغانستان اور بھارت ملکر پاکستان پر حملہ کریں گے، افغانستان اور ہندوستان آ جائیں، ان کا شوق پورا کر دیتے ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس
راولپنڈی (آئی این پی )پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹرجنرل (ڈی جی)لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہاہے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا،دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوامیں ہوئے،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگارسیاسی ماحول فراہم کیاجاتا ہے اور وہاں سیاسی اوردہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پارہا ہے،کہتے ہیں خیبرپختونخوامیں آپریشن نہیں کرنیدیں گے،فتنہ الخوارج کبھی ان پرحملہ کیوں نہیں کیا؟یہ ان کے منظورنظر بننا چاہتے ہیں،فوجی آپریشن نہیں کرناتوکیادہشتگردوں کی بیعت کرلیں؟۔جی ایچ کیو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مثر کارروائیاں کیں‘ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اور کہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ اور تربیتی کیمپ موجود ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے، اس پر نظر ڈالیں تو دس بڑے واقعات نظر آتے ہیں، ان میں کون ملوث ہے؟ یہ تمام افغانی ہیں۔انہوں نے کہا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا افغان طالبان، خوارج اور ہندوستان گٹھ جوڑ 2025 میں کھل کر سامنے آئے، اس سال کچھ اور باریک وارداتیے بھی سامنے آئے ہیں، بھارتی ٹی وی پر بیٹھ کر ایک صاحب کہتے ہیں کہ اس بار افغانستان اور بھارت ملکر پاکستان پر حملہ کریں گے، افغانستان اور ہندوستان آ جائیں، ان کا شوق پورا کر دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ان کا اسلام کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پائوں پڑ جائو ، افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا ہم ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب دنیا بھی یہی کہ رہی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب تو ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی کہہ رہا ہے کہ افغانستان سے ان پر دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں‘انہوں نے کہا ہمارے نزدیک دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں، ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں، ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے، ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے۔کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشونہیں ہے، سیاست،سیاسی جماعتوں کا کام ہیوہ بحران کا حل نکالیں‘یہ صرف فوج کی جنگ نہیں، یہ قوم کے بچے بچے کی جنگ ہے، دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ گھروں، بازاروں، گلیوں، دفتروں میں آکر پھٹیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں، یہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورتحال کے باعث دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہئے۔