سمیڈا زیادہ سے زیادہ افراد کو کاروبار کے لئے قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کیلئے جامع لائحہ عمل مرتب کرے
صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں:وزیراعظم کااجلاس سے خطاب
اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت سمیڈا کے حوالے سے اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے کہا کاروباری طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)میں ملکی معیشت کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سمیڈا میں جاری اصلاحات کا محور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو بااختیار بنانا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو بااختیار بنانے سے ان علاقوں سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی میں کمی آئے گی اور ملک کی مجموعی ترقی کو فروغ ملے گا۔پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف شعبوں میں کاروبار قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنا ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سمیڈا زیادہ سے زیادہ افراد کو کاروبار کے لیے قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کرے اور عوام میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔دریں اثناء محمد شہباز شریف نے کہا ہے کیمروں پر مشتمل پیداوار کی خود کار نگرانی کا سسٹم نصب کرنے میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پیداواری سیکٹر کے تمام شعبوں میں سیلز ٹیکس کیلئے پیداوار کی نگرانی رواں برس کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پیداواری شعبے کا تفصیلی جائزہ لے کر استعداد کا تخمینہ پیش کرنے والی ٹیم کی پزیرائی کی۔وزیراعظم نے کہا کہ فیس لیس نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے پیداوار کی نگرانی مؤثر بنائی جارہی ہے۔