وفاقی حکومت نے ادویات کی برآمدات کے شعبے میں اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پانچ سال کے اندر ادویات کی برآمدات کو 30 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ صحت کے شعبے میں قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور برآمدات کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس کی صدارت وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کی۔ اس اجلاس میں وفاقی سیکرٹری صحت، ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈریپ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کا مقصد موجودہ پیش رفت کا جائزہ لینا اور ہدف کے حصول کے لیے درکار اقدامات کا تعین کرنا تھا۔اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پانچ سال کے دوران 30 ارب امریکی ڈالر کی ادویات کی برآمدات کے لیے کون سے اقدامات کیے جائیں گے۔ مصطفیٰ کمال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادویات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے مکمل کوششیں کی جا رہی ہیں، اور تمام ممکنہ وسائل اور حکمت عملی استعمال کی جا رہی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ یہ ہدف صرف ایک عددی مقصد نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی استحکام اور اقتصادی ترقی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت اور ڈریپ اس منصوبے کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ ہدف حاصل کیا جا سکے۔ پاکستانی ادویات کو دنیا کے بڑے تجارتی بلاکس میں رسائی دینے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں، مصطفیٰ کمال نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبے کی کامیابی کے لیے باقاعدہ فالو اپ میٹنگز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ پیش رفت کی نگرانی کی جا سکے اور کسی بھی رکاوٹ کو بروقت حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کو ایکسپورٹ انڈسٹری میں تبدیل کرنا اور قومی معیشت کو مضبوط بنانا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس اقدام سے نہ صرف ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اس سے صحت کے شعبے میں بھی ترقی ہوگی، اور پاکستان عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ مستحکم کرے گا۔ اس ہدف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ حکومتی اداروں کو مل کر کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اس اہم منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔