پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون میں پیشرفت، ایس آئی ایف سی کا اہم کردار
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مدد سے ایک مربوط حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ دونوں ممالک 5 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔یہ منصوبہ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جن میں سیاحت، تعلیم، آئی ٹی، انفرا اسٹرکچر، دفاعی شعبے اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے کھیلوں کے سامان اور آلات جراحی کی تجارت کو بڑھانے اور ایک دوسرے کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ تاریخ اور ثقافت کی بدولت طلبہ کے تبادلے کے ذریعے تعلیمی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اور دونوں ممالک نے عالمی امور پر مشاورت کے لیے "شورائے اخوت" کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ مزید برآں، دونوں ممالک نے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے ذریعے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کا عہد کیا ہے۔
ترکیہ سی پیک کے ساتھ منسلک ہونے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک نے علاقائی انضمام اور تجارتی روابط کے فروغ پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک تجارتی نمائشوں کا انعقاد کرنے کے لیے پرعزم ہیں، اور پاکستان کے تاجروں کو ترکیہ میں کاروباری مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ترکیہ نے پاکستان میں ترک کمپنیوں کے لیے کاروباری عمل کو آسان بنانے میں ایس آئی ایف سی کے کردار کی تعریف کی ہے۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد اور استنبول کے درمیان مال بردار ٹرین کی بحالی پر بھی کام جاری ہے تاکہ دونوں ممالک کے تجارتی روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ایس آئی ایف سی عالمی برادری کے اعتماد کی بحالی کے ذریعے پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معاشی ترقی کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔