سہیل آفریدی کا عمران خان کی حمایت اور ملٹری آپریشن کے خلاف مؤقف کا اظہار

سہیل آفریدی کا عمران خان کی حمایت اور ملٹری آپریشن کے خلاف مؤقف کا اظہار

نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، محمد سہیل آفریدی، نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ان کا قائد، عمران خان، ملٹری آپریشن کے خلاف تھا، اور وہ بھی اس کے بالکل مخالف ہیں۔

 انہوں نے واضح کیا کہ ملٹری آپریشن دہشت گردی کا حل نہیں ہے، اور دنیا بھر میں مذاکرات کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے انتخاب پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے محنت سے یہ عہدہ حاصل کیا ہے، اور ان کا تعلق قبائل سے ہے۔سہیل آفریدی نے اس مائنڈ سیٹ پر تنقید کی جو قبائل کو پیچھے رہنے کا سوچتی ہے، اور کہا کہ 78 سال سے اس قسم کے رویوں کے ساتھ یہاں حکمرانی ہو رہی ہے۔ انہوں نے اپنے قائد عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے سیاسی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ سیاست سے عشق کرتے ہیں، اور اپنے لیڈر کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ امن و جمہوریت کے خلاف کسی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، اور اگر عمران خان کو ان کی فیملی کی مرضی کے بغیر کچھ کیا گیا تو پورے پاکستان کو جام کر دیں گے۔

 انہوں نے افغانستان کی پالیسی، پشتون تحفظ موومنٹ، اور قانون کی حکمرانی پر زور دیا، اور کہا کہ کسی کو قانون سے مبرا نہیں سمجھا جائے گا۔سہیل آفریدی نے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف بعض سازشوں کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ وہ ان تمام معاملات کی انکوائری کروائیں گے۔ انہوں نے 9 مئی کی تحریک انصاف کے خلاف کارروائیوں، اور تحریک لبیک کے کارکنوں پر تشدد کی مذمت کی۔یہ خطاب سیاسی اور قبائلی قوتوں کے درمیان اتحاد اور عمران خان کی حمایت کے عزم کا اظہار ہے، اور ان کے سیاسی وژن اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں اہم پیغامات شامل ہیں۔