وفاقی حکومت نے کراچی میں عدلیہ کے سینئر رہنما جسٹس (ر) محمد جنید غفار کو کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل کا چیئرمین تعینات کردیا ہے۔
یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کے طور پر ان کی خدمات کے اعتراف میں کیا گیا ہے، جہاں انہوں نے 2013 سے 2025 تک اہم عدالتی خدمات انجام دیں۔کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل ایک اہم عدالت ہے جو کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتی ہے۔ اس ادارے کا مقصد ملک میں منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا، مارکیٹ میں شفافیت برقرار رکھنا اور کاروباری اداروں کے حقوق کا تحفظ ہے۔جسٹس (ر) جنید غفار کا تقرر ایک فعال اور تجربہ کار جج کے طور پر ہوا ہے جنہوں نے آئینی، تجارتی اور سول مقدمات میں اہم فیصلے دیے ہیں۔ انہوں نے 2013 میں سندھ ہائی کورٹ میں جج کے طور پر خدمات کا آغاز کیا اور 2015 میں مستقل جج بنے۔ 14 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر تقرری کے بعد، انہوں نے 8 جولائی 2025 کو سندھ ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا اور 13 ستمبر 2025 کو ریٹائرمنٹ حاصل کی۔
ان کی تقرری سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل میں عدالتی معیار، کارکردگی اور قانون کی تشریح میں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ، دیگر ممبران ڈاکٹر فیض الہی میمن اور عاصم اکرم بھی اس ٹربیونل کا حصہ ہیں، جنہیں فروری 2025 میں تعینات کیا گیا تھا۔اس تقرری کے ذریعے ملک میں مارکیٹ کی منصفانہ اور شفاف سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے کاروباری ماحول میں بہتری آنے کی توقع ہے۔