ویب ڈیسک کے مطابق، پاکستان شوبز کے اداکار فیروز خان کی سابقہ اہلیہ، علیزے سلطان نے حال ہی میں اپنے وی لاگ میں سماجی رویوں پر تنقید کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری صرف ماں پر نہیں ڈالی جانی چاہیے، بلکہ والدین کو بھی اس میں برابر کا کردار ادا کرنا چاہیے۔علیزے سلطان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں یہ عام تصور پایا جاتا ہے کہ بچے کی تمام ضروریات، چاہے وہ اسکول لے جانے، روزمرہ کے کام کاج یا دیگر ذمہ داریوں کی ذمہ داری صرف ماں کی ہے۔ یہ رویہ ایک اکیلی ماں کے لیے خاصا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ بچے کی پرورش کا بوجھ عورت کے کندھوں پر ڈال دینا ناانصافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ والدین، خاص طور پر والد، صرف مالی مدد فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ بچوں کی تربیت، تعلیم اور دیگر ضروری امور میں بھی فعال کردار ادا کریں۔علیزے سلطان نے اس معاشرتی سوچ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ ایک سماجی دباؤ کا نتیجہ ہے اور ایسے نظام کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ والدین، خاص طور پر والد، بچوں کی مکمل پرورش میں حصہ لیں تاکہ بچوں کی بہتر تربیت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اور فیروز خان کی شادی 2018 میں ہوئی تھی، اور ان کے دو بچے، سلطان اور فاطمہ، ہیں۔ دونوں نے 2023 میں علیحدگی اختیار کی، جبکہ فیروز خان نے 2024 میں اپنی سائیکولوجسٹ، ڈاکٹر زینب، سے دوسری شادی کی تھی۔ اس دوران، فیروز اور ان کی دوسری اہلیہ کی طلاق کی افواہیں بھی گردش میں ہیں۔علیزے سلطان کا یہ وی لاگ اور بیان معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور والدین کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم آواز ہے، جو بچوں کی بہتر تربیت اور خاندان کے نظام میں توازن لانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔