ملک بدری پروازوں کا آغاز کرنا چاہتی ہے، جو صرف چارٹر فلائٹس تک محدود نہیں ہوں گی
افغان پناہ گزینوں کو تیزی سے ملک بدر کیا جائے گا۔ تاہم یہ پالیسی اس وجہ سے متنازع ہے
برلن (آئی این پی )جرمنی میں جرائم میں ملوث افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری کے لئے طالبان حکومت کے ساتھ معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ کابل کے ساتھ مذاکرات انتہائی پیش رفت کے مرحلے میں ہیں اور جلد باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ہے۔ ڈوبرنڈٹ نے بتایا کہ حکومت باقاعدہ ملک بدری پروازوں کا آغاز کرنا چاہتی ہے، جو صرف چارٹر فلائٹس تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ تجارتی پروازوں کے ذریعے بھی ممکن ہوں گی۔ وزیراعظم فریڈرِخ میرٹز، جو مئی میں اقتدار میں آئے، نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کیا تھا کہ جرائم میں ملوث افغان پناہ گزینوں کو تیزی سے ملک بدر کیا جائے گا۔ تاہم یہ پالیسی اس وجہ سے متنازع ہے کہ ہیمبرگ نے کابل میں طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔ جرمنی نے 2021 کے بعد سے دو ملک بدری پروازیں کی ہیں، جولائی 2025 میں 81 افغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا جبکہ گزشتہ سال 28 افراد کو ملک بدر کیا گیا