لاہور میں اسموگ کے خاتمے کے لیے محکمہ جنگلات کی شجرکاری مہم، کرول جنگل میں دس ہزار پودے لگائے گئے.
لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومت اور محکمہ جنگلات نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ اس سلسلے میں، کمیونٹی پارٹنرشپ کے تحت، کرول جنگل میں 14 ایکڑ رقبے پر واقع بنجر اور خالی زمین پر دس ہزار سے زائد درخت لگائے گئے ہیں۔ یہ اقدام عوامی شمولیت سے سرانجام دیا گیا ہے، جس میں مقامی عوام، اسکول کے طلبہ، رضاکار اور محکمہ جنگلات کے عملہ شامل ہے۔اس پروگرام کے تحت، خاص طور پر، اسپیشل ٹیموں نے جنگل میں سائنسی اور ماحول دوست اقسام کے درخت لگائے، جن میں پیپل، نیم اور جامن کے درخت شامل ہیں۔ یہ درخت نہ صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی کے ذرات کو قدرتی طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، درخت فضا کو ٹھنڈا رکھنے، بارش کے نظام کو بہتر بنانے اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ شجرکاری مہم، جو کہ ایک قومی اور سماجی فریضہ بھی ہے، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے جذبے کا مظہر ہے۔ لاہور کے مقامی شہریوں اور اسکول کے طلبہ نے بھی اس مہم میں فعال کردار ادا کیا، اور محکمہ جنگلات کی اسپیشل ٹیموں کے ساتھ مل کر درخت لگائے۔
اس حوالے سے، ایک اہم شخصیت، سینئر وزیراعلیٰ مریم اورنگزیب نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس شہری کو “گرین ایمبسڈر” کا لقب دیا ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ یہ شجرکاری مہم نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ عوامی صحت، سماجی ہم آہنگی اور مذہبی اقدار کے فروغ کا بھی ذریعہ ہے۔مزید برآں، اس مہم سے نہ صرف فضائی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ یہ شہریوں میں ماحول کے تحفظ کے حوالے سے شعور اور ذمہ داری کے احساس کو بھی فروغ دے گی۔ عوام اپنے گھروں اور علاقوں میں خود بھی شجرکاری کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جس سے اس مہم کو مزید تقویت مل رہی ہے۔یاد رہے کہ اس مہم کے دوران، لوگوں کو ماحول دوست اور مقامی انواع کے درخت لگانے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ یہ درخت زیادہ دیرپا اور موثر ثابت ہوں۔ محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوششیں جاری رہیں گی کیونکہ درخت ہمارے ماحول کے لئے زندگی کی طرح ہیں، جو ہمیں صحت مند، خوشگوار اور محفوظ فضاء فراہم کرتے ہیں۔