اگلے سال کے آخری 2 ماہ میں شادی ہالز بند کرنیکا پلان بنا رہے ہیں : ایڈووکیٹ جنرل کا ہائیکورٹ میں بیان

سموگ:نومبر ، دسمبر میں شادی پر پابندی ؟
  پنجاب میں تمام سکول 17نومبر تک بند، نجی اداروں کے نصف عملے کو آن لائن کام کرنیکی ہدایت ،موٹروے بند ،پروازیں تاخیرکا شکار، نومبراور دسمبر میں بھی سموگ جاری رہنے کا خدشہ، آلودگی پھیلانے پر سینکڑوں موٹرسائیکل بند، 24 گھنٹوں میں کروڑوں روپے جرمانہ 
 لاہور ( کرائم رپورٹر)پنجاب حکومت کے وکیل نے ہائیکورٹ میں عندیہ دیا ہے کہ آ ئندہ سال لوگوں سے کہیں گے نومبردسمبرمیں شادیاں نہ رکھیں ،اگلے سال نومبر ، دسمبر میں شادی ہالز بند کرنیکا پلان بنا رہے ہیںلاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدراک کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کو سموگ سے نمٹنے کیلئے دس سالہ پالیسی بنانے کی تجویز دے دی جبکہ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کیلئے 16 نومبر تک مہلت دیدی،ایڈووکیٹ جنرل خالد اسحاق نے دوران سماعت کہاکہ پلا ن بنارہے ہیں اگلے نومبر اوردسمبر میں شادی ہالز کو بندرکھا جائے ، ہم پلان بنا رہے ہیں کہ اگلے سال نومبر اور دسمبر میں شادی ہالز بند ہوں ،شہریوں سے کہیں گے کہ ان دو ماہ میں شادیاں نہ رکھیں۔دوسری طرف سموگ اور فضائی آلودگی کے باعث صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں سکول17نومبرتک بند کردئیے گئے جبکہ سرکاری، نیم سرکاری اورنجی اداروں کو ں دفاتر کے 50 فیصدعملے کو آن لائن کام پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے آلودگی پھیلانے پر سینکڑوں موٹرسائیکل بند، 24 گھنٹوں میں کروڑوں روپے جرمانہ کیا گیا ،موٹروے مختلف مقامات پر بند رہی ،پروازیں تاخیرکا شکارہوئیں۔ پنجاب کے مزید 5 ڈویڑنز میں سکول بند کرنے کا حکم نامہ گزشتہ روز جاری کیاگیا جس کے بعد  پورے صوبے میں سکول بندہوگئے ہیں۔۔انہوں نے کہاکہ تمام سرکاری اور نجی سکولز 17 نومبر تک بند رکھے جائیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مزید 5ڈویڑنز ڈی جی خان، ساہیوال، سرگودھا، بہاولپور اور راولپنڈی میں سکول بند کئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے صوبے میں سموگ کے باعث سرکاری ونجی دفاتر میں کام کرنے والے 50 فیصد عملے کو آن لائن کام پر منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ،جس کے مطابق اس کا اطلاق تمام سرکاری، نیم سرکاری، خود مختار اداروں پر ہوگا جبکہ دفتر آنے والا 50 فیصد سٹاف کار پول ان کا پابند ہوگا۔ڈی جی ماحولیات پنجاب ڈاکٹر عمران حامد نے تمام سیکریٹریز، سربراہان کوہدایت جاری کر دیں جس میں کہا گیا کہ دفاتر میں صرف 50 فیصد اسٹاف کو بلایا جائے گا، 50 فیصد سٹاف گھروں سے کام کرنے کا پابند ہوگا۔ دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخوا میں زہریلے دھویں کے باعث فضا ئوں میں دھندلا پن محسوس ہونے لگا، آلودہ فضا نے سانس لینا بھی محال بنا دیا، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں گزشتہ روز بھی لاہور پہلے نمبر پر رہا، شہر میں سموگ کی مجموعی شرح 968 تک جا پہنچی۔ڈی ایچ اے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1236، جوہر ٹا ئون کا 991، سید مراتب علی روڈ کا1256 اور غازی روڈ انٹرچینج کا 904 ریکارڈ کیا گیا ۔ ملتان کا اے کیو آئی 800 تک جا پہنچا جبکہ پشاور 258، فیصل آباد 252 اور اسلام آباد میں 253 ریکارڈ کیا گیا ۔ شدید دھند اور سموگ کی وجہ سے موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم تک ، ایم 4 عبدالحکیم سے شیر شاہ تک جب کہ ایم 5 شیر شاہ سے سکھر اور سیالکوٹ موٹروے ٹریفک کیلئے بندرہی۔ پنجاب کے ایئرپورٹس سے 4 پروازیں منسوخ اور ایک کو متبادل ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا،سموگ کی وجہ سے 39 ملکی اور غیر ملکی پروازیں تاخیر کا بھی شکار ہوئی ہیں۔ پنجاب حکومت نے اینٹی سموگ آگاہی مہم تیز کرنے کافیصلہ کیاہے۔ پارلیمانی سیکرٹری ماحولیات کنول لیاقت نے گزشتہ روز لٹن روڈ، فیروزپور روڈ ،مزنگ،گڑھی شاہو،شملہ پہاڑی سمیت دیگر علاقوں میں آگاہی مہم چلائی،ماحولیات کی ٹیم بھی ان کے ساتھ تھی۔نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے نومبراور دسمبر میں بھی سموگ جاری رہنے کا خدشہ ظاہر کیاہے۔ شہر لاہور کے گردونواح میں سموگ اور فوگ کا غلبہ حد نگاہ میں کمی ہوئی شہر کے داخلی و خارجی راستوں سگیاں، راوی پل، شاہدرہ چوک اور بابوصابو ،گجومتہ پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی جبکہ دھواں چھوڑنے والی موٹرسائیکلوں کیخلاف بڑاکریک ڈاؤن جاری سینکڑوں موٹرسائیکلیں تھانوں میں بندکروا دی گئیں ۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت مختلف اضلاع میں سموگ کریک ڈاؤن کے 92 مقدمات درج کرتے ہوئے 20 افراد کو گرفتار کیا گیا، 390 افراد کو 06 لاکھ 42 ہزار روپے سے زائد جرمانے عائد کئے گئے جبکہ 28 افراد کو وارننگ جاری کی گئی۔ ، ٹریفک پولیس نے 24 گھنٹوں میں دھواں چھوڑنے والی 22 سو سے زائد گاڑیوں 45 لاکھ کے جرمانے کردئیے، خطرناک حد تک دھوں چھوڑنے پر 987 موٹرسائیکلیں کو 19 لاکھ 74 ہزار جرمانہ عائد، 99 تھانوں میں بند کروا دیا گیا، بغیر حفاظتی اقدامات چلنے والی 60 ٹریکٹر ٹرالیاں بھی مختلف تھانوں میں بند کیں گئیں جبکہ آرٹیفشل انٹیلیجنس سسٹم کی مدد سے بھی دھواں چھوڑنے والی 234 وہیکلز کو ای چالاننگ جاری کئے گئے ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق صوبہ بھر میں سموک تدارک کریک ڈا ئون میں تیزی 24 گھنٹوں کے دوران 1کروڑ 48 لاکھ 90 ہزار کے جرمانے کئے گئے 24 گھنٹوں میں7 ہزار 434 سے زائد دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کا ایکشن لیا گیادھواں چھوڑنے پر 25 سے زائد گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کیے گئے۔ 29 سے زائد گاڑیوں کے روٹ پرمٹ معطل کیے گئے۔ 15 دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف ایف آئی ار بھی درج کرائی گئی۔1 ہزار سے زائد گاڑیوں کو دھواں چھوڑنے پر بند کیا گیا۔2ہزار 111 سے زائد بغیر ترپال کے مٹی ریت سے لوڈڈ ٹریکٹر ٹرالیوں کو فضائی آلودگی پھیلانے پر بھاری جر ما نے کئے گئے۔