احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی کیوں آتے ہیں؟ہائیکورٹ چیف جسٹس اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا میں تلخ کلامی

ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افسروں کو ہدایات دینا اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں :ایڈووکیٹ جنرل
 غلطی معاف نہیں کرتا ، سمجھا دوں گا:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ‘آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کرسکتے ہیں:ایڈووکیٹ جنرل  ‘ پیر تک بیانِ حلفی طلب
اسلام آباد (آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر  احتجاج اور لانگ مارچ کیس کی سماعت کے دوران  ایڈووکیٹ جنرل خبرپختونخوا نے عدالتی اختیار سماعت پر  اعتراضات اٹھادیے ہیں  اور کہاہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ کے تحت قائم ہوئی اور اس کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افسران کو ہدایات دینا اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتاجبکہ دوسری جانب عدالت عالیہ نے خبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیانِ حلفی طلب کرتے ہوئے فریقین کو جواب الجواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے  عدالت عالیہ نے خیبرپختون خواہ  چیف سیکرٹری اور آئی جی کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت میں۔ پیش نہ ہونے کی ہدایت کی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور چیف جسٹس کے درمیان بعض جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کوئی غلطی ہو تو معاف کردیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غلطی معاف نہیں کرتا ہوتا، سمجھا دوں گا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ کہنے کی ضرورت نہیں، میں بادشاہ ہوں، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے ہیں۔جمعہ کو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی بنچ میں سماعت سے قبل خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل آئی جی عباس احسن، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر حکام عدالت پہنچے۔سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پرابتدائی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلا نکتہ جسے عدالت کو دیکھنا چاہئے وہ اس کا دائرہ اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ کے تحت قائم ہوئی اور اس کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افسران کو ہدایات دینا اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہر صوبے اور اسلام آباد کے لیے الگ ہائیکورٹس قائم کی گئی ہیں، آئین کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک بنتا ہے، اسلام آباد صوبہ نہیں بلکہ ٹیریٹری ہے، اسی لیے اس کے لیے الگ ایکٹ بنایا گیا، عدالتی فیصلوں میں بھی یہ اصول موجود ہے کہ جس علاقے کا دائرہ اختیار ہو، اسی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے اس عدالت کو پورے پاکستان کا دائرہ اختیار دے دیا ہے، اگر ایک ہائیکورٹ دوسرے صوبوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرے گی تو اٹھارویں ترمیم غیر مؤثر ہوجائے گی، پہلے عدالت یہ طے کرے کہ وہ یہ کیس سن بھی سکتی ہے یا نہیں، اس کے بعد قابل سماعت ہونے کے معاملے پر دلائل دوں گا۔