شبلی فراز، عمر ایوب، اسد قیصر اور احمد بھچر کی گرفتاری و رہائی

 راولپنڈی، اسلام آباد (خبر نگار ، خصوصی نیوز رپورٹر ،دنیا نیوز، نیوز ایجنسیاں )بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے جانے والے تحریک انصاف کے رہنما ئوں کو پنجاب پولیس نے گرفتار کرلیا تاہم کچھ دیر بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قائدین ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔گرفتار ہونے والوں میں قائد حزب اختلاف سینیٹ شبلی فراز، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق ان کے علاوہ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی احمد خان بھچر کو بھی اڈیالہ جیل کے باہر سے حراست میں لیا گیا تھا، تمام رہنما ئوں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پنجاب پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ تمام گرفتار پی ٹی آئی قائدین کو کچھ دیر بعد اڈیالہ چوکی سے رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعدخیبر پختونخوا ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا ہے کہ اپوزیشن رہنما ئوں کو حبس بے میں رکھا گیا، وزیراعظم اور آئی جی پنجاب ذمہ دار ہیں، ہمیں یرغمال بنایا۔حکمرانوں کے ہوش و حواس اڑ گئے ہیں۔انہوں نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔ان کی جرات کیسے ہوئی؟ہم ان تمام کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں گے۔عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہم عدالت کیحکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے جیل گئے،ہماریپاس عدالت کے آرڈرز بھی موجود تھے، اڈیالہ جیل کے باہر پولیس اہلکاروں نے ملک احمد بھچر کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹا، پولیس اہلکاروں سیکہا آپ غیر قانونی کام کر رہے ہیں، پولیس اہلکار نے کہا ہم مجبور ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم قومی اسمبلی اورسینیٹ اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرائیں گے ، ہم جوڈیشل کمیشن کیممبران ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان کوبھی خط لکھیں گے، انہوں نے دفعہ 144 کا بہانہ بنایا اورہمیں یرغمال بنایا۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ یہ سلوک ہمارے ساتھ نہیں پاکستان کے آئین کیساتھ ہوا، اپوزیشن رہنما ئوں کوگھسیٹ کر گرفتار کیا گیا، اسد قیصر کا کہنا تھا کہ یہ ہماری نہیں پوری پاکستان کی قوم اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوئی ہیڈیٹا نکالا جائے