عمر ایوب‘شبلی فراز‘اسدقیصر‘صاحبزادہ حامد رضا‘احمد خان بھچرگرفتاری کے کچھ دیر بعد رہا

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے گئے تھے‘اڈیالہ جیل کے باہر سے دفعہ144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا‘عالیہ حمزہ  بچ نکلنے میں کامیاب
یہ جمہوریت نہیں فسطائیت ہے: اسد قیصر،ہیومن رائٹس کمیشن جائیں گے :حامد رضا‘حبس بے جا میں رکھا گیا:عمر ایوب کی میڈیا سے گفتگو

راولپنڈی (بیورو رپورٹ‘ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے  بانی عمران خان سے ملاقات کیلئے جانے والے شبلی فراز،عمر ایوب،اسد قیصر،احمد رضا،احمد خان سمیت تمام رہنمائوں کو گرفتاری کے کچھ دیر بعد  اڈیالہ جیل چوکی سے رہا کر دیا گیا‘ ۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب، قائد حزب اختلاف سینیٹ شبلی فراز، اور دیگر رہنماؤں بشمول قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھر، اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔  اس دوران سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور پی ٹی آئی کی خاتون رہنما عالیہ حمزہ بھی جیل پہنچ گئیں۔ تمام رہنما جیل کے گیٹ نمبر 5 پر پہنچے، جہاں سے سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد انہیں جیل کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔تاہم ذرائع کے مطابق، اسد قیصر، شبلی فراز، عمر ایوب، ملک احمد خان بچھر اور صاحبزادہ حامد رضا کو جیل کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا اور انہیں اڈیالہ چوکی منتقل کر دیا گیا۔ عالیہ حمزہ گرفتاری سے بچ کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اسد قیصر نے رہائی کے بعد کہا کہ انہیں غیر قانونی طور پر چوکی کی حوالات میں بند رکھا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے ائے تھے ‘اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ قومی اسمبلی، سینٹ اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز کو حبس بے جا میں رکھا گیا تھا اور وہ اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں۔شبلی فراز نے کہا کہ ہم ملاقات کے لیے آئے تھے اور کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی تھی۔ جب ہم واپس جانے لگے، تو ہمیں بے رحمی سے گاڑیوں سے نکال کر گرفتار کیا گیا۔پولیس ترجمان کے مطابق، اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے اکٹھے ہونے کی وجہ سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ان کارکنوں کو وارننگ دے کر روانہ کر دیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔